مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
ایسالگتا ہےکہ بھارتی پردھان منتری نریندر مودی اوقات میں رہ کر عالمی برادری میں اپنی عزت بحال نہیں رکھناچاہتے ہیں۔ 6ستمبر 1965ء کی طرح اعلان جنگ کیےبغیر گزشتہ روز بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پرفضائی حملہ کیا،ہوا میں زبردست ڈاگ فائٹ ہوئی جس کےبعدبہاولپور کےنزدیک پاکستان کےجے10سی فائٹرجیٹ نےبھارتی رافیل طیارہ مار گرایا۔ مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھےتو دنیا نے انہیں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے دیکھا۔ اب وہ وزیراعظم ہیں تو بھارت اور گجرات سے باہر ان کی نظر پاکستانی مسلمانوں پر ہےمگر پاکستان انہیں اپنے ہاتھ خون سے رنگنے کا موقع نہیں دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے تقدیر کو انہیں رسوا کرنامنظور ہےکہ وہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر بار بار سرحدی دراندازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت نے آزادکشمیر میں بھی دراندازی کی، جہاں ایک بھارتی ہیلی کاپٹر کو پاکستانی ائیرفورس نے تباہ کردیا۔ بھارت کی جلد بازی میں کی گئی ان دہشت گردانہ حرکات سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ بھارت کسی وقت بھی زمینی جنگ شروع کرنےکی غلطی کرسکتاہے۔پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے 24گھنٹے قبل آگاہ کیاتھاکہ بھارت سےتصادم کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ بھارت نے پانی روکنے کےلئے تعمیرات کیں تو تباہ کر دیں گے۔
نریندرمودی کاجنگی جنون کسی سےڈھکا چھپانہیں، وہ جارحیت کےجس خمار میں مبتلا ہیں اس سےپاکستان بےخبرنہیں ہےجس کے پیش نظرپاکستان نےگزشتہ روز ایک ایٹمی میزائل کاکامیاب تجربہ کیا۔اس پرامریکہ نےبھی پاکستان اوربھارت کےدرمیان اشتعال انگیز صورتحال کوانتہائی سنجیدہ اورپیچیدہ قراردیا۔ امریکی رکن کانگریس مین کیتھ سیلف نےبھی گزشتہ روز کہا کہ ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ناقابل تصور ہے، کوئی بھی جنگ ایک بار شروع ہوجائے تو آپ اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔اراکین کانگریس نے اعتراف کیاکہ قیام پاکستان سےابتک پاکستان کےخلاف بھارت کئی ’’فالس فلیگ آپریشنز‘‘ میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس باربھی پہلگام واقعہ کے 10منٹ کے اندر ہی ایف آئی آر درج کرلی گئی جبکہ جس جگہ فائرنگ کی گئی تھی وہاں سے پولیس اسٹیشن کاایک گھنٹے کافاصلہ تھا۔ یہی نہیں الزام بھی پاکستان پر عائد کردیاگیا مگر ثبوت نہیں دیئے گئے۔وزیراعظم نریندر مودی ممکن ہے یہ بات بھول گئےہیں کہ ماضی میں بھی ایسی بھارتی جارحیتیں بے نتیجہ ثابت ہوتی رہی ہیں جس کی آخری مثال ابھینندن ہیں،ابھینندن نے اپنی گرفتاری کے 2سال بعد اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ پاکستانی آرمی ایک پروفیشنل فوج ہے، میں پاک فوج کی بہادری سے بہت متاثر ہوا ہوں، لڑائی تب ہوتی ہے جب امن نہیں ہوتا، میں یہ چاہتا ہوں ہمارے دیس میں امن رہے اور ہم سکوں سے رہ سکیں۔ انہوں نے کشمیریوں کے بارے کہا تھا کہ، “نہ آپ کو پتہ ہے اور نہ مجھے معلوم ہےکہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔”
پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان اب تک جتنی بڑی جنگیں اور محدود جھڑپیں ہوئی ہیں، ان کا بنیادی مرکز و محور عموما ًریاست جموں و کشمیر رہا ہے۔ 1947 ء میں برصغیر کی تقسیم کے فورا بعد ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی، جسے 1947-48 ء کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ جموں و کشمیر کے الحاق کے مسئلے پر ہوئی۔دوسری جنگ 1965 ء میں ہوئی جو کہ کشمیر کے تنازعہ پر ہی دوبارہ بھڑکی۔اس جنگ میں دونوں ممالک نے دعویٰ کیا کہ وہ کامیاب رہے، لیکن دونوں طرف سےکسی واضح فتح کا اعلان نہ ہوسکا۔ اس جنگ کا اختتام سویت یونین کی ثالثی سےہونےوالے ’’تاشقند معاہدے‘‘ پرہوا۔1971ء کی جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونےوالی سب سےفیصلہ کن اوربڑی جنگ تھی۔ اس کےنتیجےمیں نیا ملک بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آیا۔ اسی جنگ کے مابعد نتائج کی وجہ سے 1999ء میں ایک اور بڑی فوجی جھڑپ کارگل کی پہاڑیوں میں ہوئی، جسے کارگل جنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں پاکستانی فوج اور جنگجوئوں نے لائن آف کنٹرول عبورکرکے بھارتی علاقے میں گھس کر اہم پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، لیکن عالمی دبائو اور خاص طور پر امریکہ کی جانب سے مداخلت کی بنا پر پاکستان کو اپنی فوجیں پیچھے ہٹانی پڑی تھیں۔ان جنگوں کے علاوہ سیاچن گلیشیئر پر بھی 1984ء سے کشیدگی جاری ہے۔ بھارت نے آپریشن میگھدوت کے تحت سیاچن پرقبضہ کیا۔ 2019ء میں ایک اور محدود مگر اہم واقعہ اس وقت پیش آیاجب پلوامہ حملے کےبعد بھارت نےپاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا، جس میں بھارت نےدہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانےکادعوی کیا۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا، جسے بعد میں امن کی علامت کے طور پر رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے میں دونوں ممالک نے اپنی کامیابی کے دعوے کئے، لیکن بین الاقوامی سطح پر کوئی فیصلہ کن فاتح سامنے نہیں آیا۔
اگر پاک بھارت جنگوں کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں کوئی بھی ملک ایک دوسرے پر یکسر اور مکمل برتری ثابت نہیں کر سکا تو اب جبکہ دونوں ممالک ’’ایٹمی قوت‘‘ ہیں اور ایک دوسرے کو فتح نہیں کر سکتے ہیں بلکہ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے تو کیوں نہ اس جنگی جنون سے باہر آیاجائے؟ نریندر مودی کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس خطرناک ترین ’’کیمیائی ہتھیار‘‘ اور ’’ایٹم بمز‘‘ ہیں مگر سرحد کے دونوں اطراف عوام میں بھوک اور مفلسی ناچ رہی ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کو نقصان ہی پہنچاتی ہے تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو چاہیے کہ وہ اپنے اس جنگی جنون سے باہر آئیں۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ اب وہ باہمی اختلافات کو مذاکرات، تجارت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے اور جو بجٹ جنگی جنون پر خرچ ہو رہا اسے غربت کی چکی میں پستی عوام پر لگایا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لیں اور وہ بھی پیٹ بھر روٹی کھا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: دونوں ممالک پاکستان اور پاکستان کے کے درمیان جنگی جنون بھارت نے نہیں کر رہا ہے
پڑھیں:
ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن
پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔
I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.
Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…
— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026
ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔
مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن
انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔
پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔
مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027