اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گا، قوم مطمئن رہے، جواب دینے کے لیے 200 فیصد تیار ہیں، پاکستان اپنی جوابی کارروائی میں بھارت کے سویلینز کو نشانہ نہیں بنائے گا، ہم صرف فوجی تنصیبات پر حملے کریں گے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا بھارتی میڈیا میں جھوٹ کا سیلاب آیا ہوا ہے، بھارت نے جس طرح ذلت اٹھائی، انہوں نے اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہے۔ بھارت اپنے عوام کو یہ تو نہیں بتائے گا کہ سب جگہ ہمیں مار پڑ رہی ہے۔انہوں نے کہا اسرائیل اور بھارت کا اتحاد فطری ہے، دونوں اسلام مخالف ہیں، ان کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ دوست ملک کھل کرپاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ترکیہ اور آذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے، بھارت کے قریب ترین حلیف بھی اس کاساتھ نہیں دے رہے، پاک فوج لائن آف کنٹرول اور سرحد پر دشمن کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا مسلح افواج کی بھرپور جوابی کارروائی اس وقت بھی جاری ہے، ہم اس قت دنیا کے تمام ضروری ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا سفارتی کوششوں کو مزید تیز کرکے مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اور اسکے طلبہ ہماری ثانوی دفاعی لائن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کل سے شروع کیے گئے ڈرون حملے ہماری اہم لوکیشنز لینے کیلئے کیے گئے تھے، ڈرون حملوں کو انٹرسیپٹ اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ ہماری لوکیشنز ٹریس نہ ہوں، جب ڈرونز مناسب فاصلے پر آئے تو انہیں مار گرایا۔ وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہمارے جوانوں نے اپنے معصوم شہریوں کی شہادت کا بدلہ انکے فوجی ٹھوک کے دیا ہے، سفید جھنڈے ایسے ہی نہیں لہرائے جاتے، انہوں نے اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھائی ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کے انشاء  اللہ ٹکڑے ہوں گے اورمودی ہی کے ہاتھوں ہونگے۔ بھارت نے ڈرون بھیجے کیونکہ انکے پائلٹس کو پاکستان آنے میں ڈر لگتا ہے‘ دشمن کو جواب جو تین روز قبل دیا گیا اب اس سے بڑھ کر ہوگا۔ پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ رویہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا مگر کسی نے ہمیں چھیڑا  تو گھس کر ماریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں سے مطمئن نہیں ہوں، پاک افواج بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ بھارت نے ہماری مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا، کل جمعے کو ہم نے ملک بھر میں یوم دفاع وطن منانے کا فیصلہ کیا۔ کل11مئی کو پشاور اور 15مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ ہوگا جس میں پاکستان کے مؤقف کو اُجاگر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا افواج پاکستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں، فوج سے گلے ہیں لیکن جب وطن عزیز کا معاملہ آئے گا تو وہ ہمیں دو قدم آگے پائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ بھارت ہمارے خلاف اسرائیلی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم ان دونوں کے خلاف ایک ہی لب ولہجہ اختیار کریں۔ وفاقی وزیر ریلوے محمدحنیف عباسی نے کہا ہے کہ پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی بھی جارحیت پر دشمن کو دندان شکن جواب دیں گے۔ گجرات کے قصائی نے صرف مسلمانوں کے خون سے ہاتھ نہیں رنگے بلکہ دیگر اقلیتوں کا بھی خون بہارہا ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد ہے، ہم نے بھارتی سندور کو ان کیلئے تندور بنایا ہے۔ سرحدوں کے دفاع اور ملکی سالمیت کیلئے پوری قوم متحد ہے۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ  بھارت پاکستان کے خلاف جارحیت کے   ذریعہ خطہ میں بالادستی چاہتا ہے مگر بھارت کے ان عزائم کو کا میاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ پاکستان کے میڈیا نے بہترین کردار ادا کرکے بھارتی پراپیگنڈا کا بھرپور جواب دیا ہے۔ دونوں ایوانوں میں پاکستان اور ملک کی سلامتی اور تحفظ کی بات کی گئی ہے۔ یہ پیغام پوری دنیا کو گیا ہے کہ پاکستان اور پوری قوم متحد ہے اور قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا پاکستان کے بھارت کے کے ساتھ

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے