پاک بھارت کشیدگی: وزیر اعظم کی صدر زرداری سےملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
سٹی42 : وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی ہے جس میں آپریشن بنیان مرصوص سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے صدر مملکت کو بھارتی جارحیت اور پاکستان کی جانب سے آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کی صورت میں بھارت کو دیئے جانے والے موثر جواب بارے آگاہ کیا۔
مری میں ’’پاک فوج زندہ باد ‘‘ ریلی
ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔
صدر مملکت آصف زرداری نے بھارتی بلا اشتعال جارحیت اور میزائل حملوں کا منہ توڑ جواب دینے پر ملک کی مسلح افواج کی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کو سراہا۔
صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمے دار اور امن پسند قوم کی حیثیت سے بھارتی اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں کافی تحمل کا مظاہرہ کیا، افسوس کہ بھارتی جارحیت کی وجہ سے پاکستان کے پاس اپنی خودمختاری کے دفاع ، اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اسلام آباد پہنچ گئے
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پوری پاکستانی قوم متحد ہے، بھارتی جارحیت کے مقابلے میں اپنی مسلح افواج کی بھرپور حمایت کرتی ہے، پاکستان ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔