وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم اگلے لیول کےلیے بھی تیار ہیں، اگر بین الاقوامی طاقتیں مداخلت کرتی ہیں تو ہم اس کےلیے بھی تیار ہیں، ہم اپنے گارڈز ڈاؤن نہیں کریں گے، 2 ایٹمی طاقتوں کی جنگ دنیا کےلیے فکر کا مقام ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پچھلے دو تین روز میں بھارت نے امن کی بات ضرور کی لیکن جارحیت بھی جاری رکھی، اگر معاملہ بڑھتا ہے تو اس کےلیے بھی ہم تیار ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ تماشبین بھی اس صورتحال میں لپیٹے جائیں گے، خدانخواستہ ایٹمی صورتحال بنی تو پھر تماشبین بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے، جنگ بڑی ہوئی تو پھر اس خطے تک محدود نہیں رہے گی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ معاملے کے اگلے لیول تک جانے کے امکانات کو رد نہیں کرسکتے، میرا تجزیہ ہے ٹرمپ اس خطے میں آنے سے پہلے اس معاملے کا حل چاہیں گے۔   انہوں نے کہا کہ دنیا اب اس معاملے کو سنجیدہ لے گی، ہمارا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے، انٹرنیشنل کمیونٹی نے صرف تماشبینی کی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہم یہ ردعمل نہ دیتے تو بھارت نے 2 یا 3 مہینے بعد پھر ہم پر چڑھائی کر دینی تھی، ہم نے بھارت کو روکا ہے، بھارت کو پتا لگنا چاہیے کہ پاکستان برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نور خان بیس پر ایک گاڑی کے سوا کسی اور جگہ کوئی نقصان نہیں ہوا، نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہو رہا، ساڑھے 8 بجے وزیراعظم نے ایک میٹنگ بلائی ہوئی تھی، اس میں وزیراعظم نے کہا کہ ساری لیڈرشپ سے بات کرنا چاہتا ہوں، یہ بھی یکجہتی کا ایک پیغام ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: وزیر دفاع کےلیے بھی نے کہا کہ تیار ہیں

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم