6   اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملوں اور ڈرونز کی دراندازی کے بعد پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا آغاز کیا جس کا مقصد بھارت کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا اور ملکی سالمیت کا دفاع تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی دفاعی نظام کو نابود کرنیوالے JF-17 تھنڈر کی خصوصی ویڈیو منظرعام

اس آپریشن میں پاکستان نے بیاس میں براہموس میزائل سائٹ، ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور، سورت گڑھ ایئر بیسز، بھارتی انٹیلیجنس کا راجوڑی میں تربیتی مرکز اور متعدد سپلائی ڈپو تباہ کیے اور ساتھ ہی بھارت کے مہنگے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بھارت کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچا اور اس کا بجلی کا 70 فیصد گرڈ سسٹم بھی ناکارہ ہوگیا۔

بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے بعد بھارت نے گھٹنے ٹیک دیے اور جنگ بندی پر آمادہ ہوگیا۔

بھارتی فوج کی ترجمان کرنل صوفیہ قریشی کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس میں کہا گیا ہے کہ بھارت جنگ نہیں چاہتا، بشرطیکہ کہ پاکستان بھی ایسا ہی چاہے۔

پاکستان کی اس جوابی کارروائی کا اس صورتحال پر کیا اثر ہوا اور کیا اس جوابی کارروائی کے بعد انڈیا جنگ بندی کو ترجیح دے گا؟

اس حوالے سے ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شاندار جوابی کارروائی نے دنیا کو دکھایا کہ پاکستان نے بہت برداشت کرنے کے بعد جواب دیا۔ پاکستان خود جنگ کو ہوا نہیں دے گا لیکن اس کو اگر کوئی مسلسل جارحیت کا نشانہ بنائے گا تو اس کو ایسا جواب دیا جائے گا کہ دنیا دیکھے گی۔

دفاعی ماہر راشد قریشی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے 3 دن تک بھارت کی شدید جارحیت کو برداشت کرنے کے بعد جو جوابی کارروائی کی وہ قابل تعریف تھی۔ پاکستان نے پوری کوشش کی کہ کسی بھی عسکری ردِعمل سے پہلے سفارتی راستہ اپنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اتنا انتظار کیا گیا کہ عوام میں مایوسی پھیلنے لگی تھی لیکن پاکستان کی جانب سے پھر بھی برداشت کیا گیا کی کہ شاید بھارت اپنی جارحیت پر شاید قابو پا لے۔ حتیٰ کہ لوگ سوال کرنے لگے کہ جب ہمارے بچوں، ماؤں اور بہنوں کو شہید کیا جا رہا ہے تو ہماری جانب سے جواب کیوں نہیں جا رہا۔

مزید پڑھیے: پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے کن ممالک نے رابطے کیے؟

راشد قریشی نے کہا کہ پاکستان نے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور بھارت کی سیاسی قیادت کو اس جارحیت سے باز رکھیں۔ پاکستان نے صاف طور پر کہا تھا کہ اگر ہم نے جواب دیا تو سب دیکھیں گے اور پھر دنیا نے وہ جواب دیکھا۔ ایسا مؤثر اور حیران کن کہ بھارت دنگ رہ گیا۔

انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ فی الحال بھارتی فوجی یا سیاسی قیادت اس معاملے کو مزید آگے بڑھانے کی ہمت کرے گی۔ تاہم مجھے اس بات کا بھی یقین ہے کہ بھارت جیسے ہی موقع پائے گا دوبارہ کسی جھوٹے پراپیگنڈے کا سہارا لے کر پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرے گا اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مسئلہ یہی پر ختم ہو جائے گا لہٰذا، پاکستان کو ہر وقت مکمل تیار رہنا چاہیے۔

دفاعی تجزیہ حارث نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک ذمے دار جوہری ریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے جبکہ بھارت نے پروپیگنڈا کی بنیاد پر پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں دھکیلا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے کشمیر پر حملہ کیا گیا اور ہمارے سویلینز کو شہید کیا گیا جس کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے تباہ کیے اور صرف اپنا دفاع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پھر اس کے اگلے ہی دن بھارت نے پاکستان پر ڈرونز فائر کرنا شروع کر دیے، جن میں سے تقریباً 80 ڈرونز کو پاکستان نے مار گرایا لیکن اس کے باوجود بھارت باز نہ آیا، اور اس نے جھوٹ پر مبنی خبریں پھیلانی شروع کر دیں کہ بھارت نے پاکستان کے بڑے شہروں پر حملہ کر دیا ہے، بھارتی فوج پاکستان میں داخل ہو گئی ہے، پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیارے گرائے گئے ہیں اور پائلٹ پکڑ لیے گئے ہیں، وغیرہ۔

حارث نواز نے کہا کہ گزشتہ شب ایک بار پھر بھارت کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور شیخوپورہ پر میزائل داغے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے سکھوں پر حملے کیے اور الزام پاکستان پر لگا دیا جبکہ افغانستان پر بھی میزائل فائر کیے گئے۔ ان مسلسل اشتعال انگیزیوں کے بعد پاکستان نے آج صبح جوابی کارروائی میں بھارت پر میزائل فائر کیے اور ان کی ایئربیسز سمیت دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا جس سے بھارت کو خاصا نقصان ہوا اور بھارت نے خود بھی اس نقصان کو تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے دوبارہ کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو پاکستان بھی اس کا بھرپور جواب دے گا اور یہی اس وقت ہماری حکمت عملی ہے اور آرمی چیف کی جانب سے بھی واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر بھارت نے مزید جارحیت کی تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

مزید پڑھیں: آپریشن ’بُنیان مَرصوص‘ کے بعد بھارت نے ہاتھ جوڑ لیے

 بھارت مزید حملے کرے گا یا نہیں، اس کے جواب میں حارث کا کہنا تھا کہ ہم بھارت پر بالکل بھی اعتماد نہیں کر سکتے اگر آج رات اور کل کا دن خیریت سے گزر جاتا ہے تب بھی ہم مکمل تیاری کے ساتھ رہیں گے اور بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکا اور دیگر ممالک کشیدگی ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر بات چیت سے کشیدگی کم ہوتی ہے تو یہ بہتر ہوگا۔

ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکا نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس کشیدگی میں مداخلت نہیں کرے گا اور دونوں ممالک کو اپنے معاملات خود حل کرنے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان ایک بہت مضبوط جوہری صلاحیت رکھنے والا ملک ہے لیکن جب انہیں اس حقیقت کا ادراک ہوا تو انہوں نے فوری طور پر مداخلت کی اور اب کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں کیونکہ 2 جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی کا اس حد تک بڑھ جانا دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آپریشن بنیان مرصوص پاک بھارت کشیدگی پاکستان کا جواب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آپریشن بنیان مرصوص پاک بھارت کشیدگی پاکستان کا جواب انہوں نے کہا کہ جوابی کارروائی کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان نے پاکستان کے کی جانب سے جواب دیا بھارت کی بھارت نے کہ بھارت کیے اور کرنے کے کیا گیا کے لیے کے بعد

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی