عسکری قیادت کی موجودگی میں پاکستان پہ کوئی آنچ نہیں آسکتی، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کو قوم کے محسن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا، جنرل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی قیادت میں پاکستان ناقابلِ تسخیر قلعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جری سپہ سالاروں کی موجودگی میں پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آسکتی۔
خواجہ آصف نے ایک ایکس پر جاری ایک خصوصی بیان میں کہا کہ جنرل ساحر شمشاد اور جنرل عاصم منیر آپ قوم کے محسن ہیں، آپ کی قیادت میں قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر بابر اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کو بھی زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی قوم کے محسن ہیں۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان عظیم سالاروں کی کمان میں ملک کے بیٹے اور بیٹیاں دشمن کے سامنے فولاد کی دیوار بنے کھڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کی کمانڈ میں ہمارے بیٹے بیٹیاں ہمارے ہیرو ہیں، ان پر قوم کو ناز ہے۔‘
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جب آپ جیسے محافظ سرحدوں پر موجود ہوں تو قوم چین کی نیند سوتی ہے، آپ کی موجودگی قوم کے لیے حوصلے اور سکون کا باعث ہے۔‘
خواجہ آصف نے آخر میں کہا، ’اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو، آپ کی قیادت میں پاکستان ان شاء اللہ ہمیشہ سربلند رہے گا۔‘
ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کرسکتے ہیں، وزیر دفاع
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم نے نئی دہلی میں پہنچ کر صرف ایک پیغام دیا ہے، ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کر سکتے ہیں، ہمارے کنٹرولڈ ردعمل سے جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی، جو بات چیت ہوگی، اللہ کرے اس سے راستے نکلیں، بھارت اور پاکستان خود 2 ارب افراد کی مارکیٹ ہیں، ہم آپس میں ہی تجارت کریں تو باہر نہیں جانا پڑے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران نئی دہلی پہنچ کر صرف ایک پیغام دیا، ہم نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ”کنٹرولڈ ردعمل“ تھا، جس کے باعث جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ میں کمی آئی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ”جو بات چیت ہوگی، اللہ کرے اس سے راستے نکلیں“۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے اور بھارت اور پاکستان خود 2 ارب افراد کی مارکیٹ ہیں، ساتھ میں ڈیڑھ ارب کی چین کی مارکیٹ بیٹھی ہے، ہم آپس میں ہی تجارت کریں تو باہر نہیں جانا پڑے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کہہ رہی ہے بھارتی ملٹری کا اندازہ غلط نکلا، بھارتی سفارتی تجزیے اور اندازے بھی غلط نکلے، ہم پر کسی ملک نے دباؤ نہیں ڈالا، بلکہ تمام ممالک نے پاکستان کو کہا کہ ”آپ ٹھیک ہیں، کوئی راستہ نکالیں“۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے اپنے آپ کو جدید جنگی سازوسامان والے ممالک میں شمار کر لیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کہا کہ پاکستان خواجہ آصف نے نئی دہلی میں میں پاکستان وزیر دفاع پیغام دیا نے کہا کہ انہوں نے قوم کے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس