افواج کو زبردست خراج تحسین، آپریشن بنیان مرصوص کامیاب ترین: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ "آپریشن بنیان مرصوص" دنیا کی تاریخ کا کامیاب ترین آپریشن ہے، جس نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا۔ پاکستانی فوج نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ دنیا کی بہترین اور پروفیشنل ترین افواج میں سے ہے۔افواجِ پاکستان کے کارنامے سنہری حروف میں لکھے جائیں گے۔ بھارت نے پاکستان کے صبر کو کمزوری سمجھا، مگر ہماری پْرعزم اور ذمہ دار قیادت نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔ پچھلے چار سے پانچ دنوں سے بھارت مسلسل جھوٹ اور پروپیگنڈے کے ذریعے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن پاکستانی فوج نے صرف چار گھنٹوں میں دشمن کو مؤثر جواب دے کر خاموش کر دیا۔ پاکستان نے دن کے اجالے میں بھارت کو جواب دیا، جو ہمارے اعتماد اور شفافیت کا ثبوت ہے۔ افواجِ پاکستان نے چند گھنٹوں میں بھارتی فوج اور اس کے بیانیے کو مکمل طور پر ایکسپوز کر دیا ہے۔انہوں نے پاکستانی میڈیا کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ خراجِ تحسین کا مستحق ہے، کیونکہ اس نے بھارتی میڈیا کو صحافتی قواعد و ضوابط سکھا دئیے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جو بھارتی میڈیا پانچ دنوں سے جھوٹ بول رہا تھا، آج وہی میڈیا پاکستان کی برتری کو تسلیم کر رہا ہے۔ مودی کا جنگی جنون آخرکار اسی کے گلے پڑ گیا ہے، اور اب دنیا بھارت کی جنگی جارحیت اور جھوٹے پروپیگنڈے کو پہچان چکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔