دنیا اس وقت ایک نہایت نازک اور خطرناک موڑ پر کھڑی ہے ایک ایسا موڑ جو ظلم کی انتہا ہے فلسطین کے شہر، غزہ کی خون میں بھیگی گلیاں، اور اسرائیلی بربریت کی انتہا اور امریکہ و برطانیہ اور یورپ کی مجرمانہ تائید اور قانون و انصاف کی دھجیاں بکھیر کر بھی رکنے کو تیار نہیں۔
اب بھارت کا پاکستان پر اچانک حملہ اور مغربی صہیونی میڈیا کی بھارت نوازی اور پاکستان پر بے بنیاد الزام تراشی دونوں ملکوں کو ایٹمی تنائو کا ماحول اور ایٹمی جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش‘ عالمی طاقتوں کی صف بندی یہ سب معمولی واقعات نہیں بلکہ وہ فتنہ ہے جس کی نشان دہی علم آخرزمان میں مذکور ہے۔
آج کا انسان چاہے مسلمان ہو یا غیر مسلم، وہ ایک عظیم تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں امام مہدی کا ظہور، ملحمۃ الکبری، اور حضرت عیسی کا نزول قریب تر آ چکے ہیں۔
اسرائیلی بربریت کی خوفناک انتہا اور مغربی شرمناک خاموش تائید اور حمایت ‘ ہزاروں بچوں، خواتین اور معصوم شہریوں کا قتل‘ ہسپتالوں، سکولوں اور عبادت گاہوں پر حملے‘ پوری دنیا کے سامنے کھلی نسل کشی ۔
یہ مظالم صرف فلسطینیوں پر نہیں، بلکہ انسانیت اور حق پرستوں کے ضمیر پر حملہ ہے اور قانون و انصاف کی کھلے عام دھجیاں بکھیرنا شرمناک ہے۔
امریکہ و برطانیہ کی صہیونی نواز حکومتوں کی شرمناک اسرائیلی اربوں ڈالر کی عسکری امداد‘ اسرائیل کی عالمی سطح پر وکالت‘دجالی صہیونی میڈیا کے ذریعے حقیقت کو مسخ کرنا ان کے اصل چہرے کا بے نقاب ہونا مگر شرم کی انتہا اور ڈیٹھ پن ۔ قرآان اس کی وضاحت کرتا ‘اور جب تم ظالموں کو دوست بنائو گے تو تم بھی ان کے ساتھ اٹھائے جائو گے۔(القرآن)
صہیونی اسرائیلی ایماء پر انڈیا نے ا چانک پاکستان پر حملہ کرکے برصغیر میں آگ لگائی ہے جس میں انڈیا خود بھسم ہو جائے گا ا اور لگتا ہے یہ غزوہ ہند کا پیش خیمہ ہے اور یہ پاکستان و بھارت کی جنگ ملحمۃ الکبری کی تمہید ہو سکتی ہے ۔
غزوہ ہند کی احادیث کے مطابق یہ وقت قریب تر آچکا ہے ۔حدیث ‘ ’’میری امت کا ایک لشکر ہندوستان پر حملہ کرے گا، اللہ انہیں فتح دے گا۔‘‘
علمائے کرام و صوفیائے عظام جیسے نعمت اللہ شاہ ولی، امام ربانی، پیر مہر علی شاہ نے پیش گوئی کی کہ پاکستان اس آخری لشکر کی جائے تیاری ہوگا جو امام مہدی کی قیادت میں ظلم کے خلاف نکلے گا۔
بھارت و صہیونی گٹھ جوڑ‘ بھارت، صہیونی اسرائیل کا اسٹرٹیجک اتحادی‘ ہندوتوا نظریہ اور فلسطینی عوام پر ظلم میں یکسانیت‘ پاکستان پر مسلسل الزام تراشی کا دبائو اور حملے کی تیاریاںایٹمی خطرہ: عالمی تباہی کی دہلیز‘ ایٹمی ہتھیار صرف برصغیر کے لیے نہیں، دنیا بھر کی تباہی کا پیش خیمہ ہیں‘ یہی وہ کیفیت ہے جو ملحمۃ الکبری کی ابتدائی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
امام مہدی کا ظہور:اور روحانی قیادت کا آغازظہور کی علامات‘ زمین پر ظلم و فساد‘ علم کا اٹھ جانا‘ علماء سو کا غلبہ‘اہلِ حق کی غربت جب زمین ظلم و جور سے بھر جائے گی، تب اللہ تعالیٰ میرے اہلِ بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا (سنن ابی دائود)
خراسان اور سیاہ جھنڈے ‘جب تم سیاہ جھنڈوں کو مشرق سے آتے دیکھو، تو ان سے جا ملو، اگرچہ برف پر چل کر جانا پڑے، کیونکہ ان میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔(ابن ماجہ)
خراسان کا علاقہ افغانستان، ایران، اور شمالی پاکستان اس روحانی لشکر کی جائے آغاز ہوگا۔.

فلسطین سے لے کر کشمیر تک: ایک امت، ایک جنگ یہ صرف فلسطین کا مسئلہ نہیںیہ صرف کشمیر یا غزہ کا مسئلہ نہیںیہ صرف پاکستان یا شام یا یمن کا مسئلہ نہیںیہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر کا مسئلہ ہے۔ اگر تم ایک جسم کی مانند ہو، تو ایک عضو کے درد پر پورا جسم بے چین ہوتا ہے۔(حدیث نبوی ﷺ)
دجالی صہیونی میڈیا، معیشت اور حکمرانی صہیونی میڈیا: جھوٹ کو سچ بنانے کا آلہ‘معیشت: سودی نظام، ڈالر کی غلامی، اور سرمایہ دارانہ جبر‘ حکمرانی: ظلم، فتنہ، اور انسانی حقوق کے نام پر فریب دجال کے پاس جنت و دوزخ ہوں گے، لیکن اس کی جنت اصل میں جہنم ہوگی۔(صحیح مسلم)
ہمارے فرائض: خاموشی جرم ہے۔شعور کی بیداری ایمان علامت ہوگی ہمارے لئے ضرور ہے کہ ہم صہیونی اسرائیلی و بھارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ‘ سوشل میڈیا پر سچ بولنا‘ فلسطین، کشمیر اور غزہ کی حمایت میں موثر آوازاٹھائیں‘ توبہ، استغفار، ذکر، قرآن کی تلاوت ‘ امام مہدی کے لشکر میں شمولیت کیلے تیار رہیں۔
حضرت رومی نے فرمایا۔ جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو سمجھ لو کہ عدل کا سورج طلوع ہونے کو ہے۔کیا ہم آخری معرکہ کے دروازے پر ہیں؟جی ہاں بالکل دنیا کی ہر علامت، ہر ظلم، ہر خوں ریزی، اور ہر اتحاد ہمیں ایک ہی سمت لے جا رہا ہے اور ہم ملحمۃ الکبری کی دہلیز پر ‘مہدی کا ظہور‘ جھوٹے مسیح دجال کا خروج اور حضرت عیسی کا نزول اور دجال کا خاتمہ اور ایک روحانی آخری خلافت کا قیام ہمارے لئے نوید سحر ہے ۔ یہ وقت ہے کر تمام مسلمان ایک اور متحد ہو جائیں ۔ باہمی اختلافات بھول ل جائیں‘ اخوت و محبت امت واحدہ بن جائیں اور کامیاب ہو جائیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ملحمۃ الکبری پاکستان پر کا مسئلہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی