کراچی:

پاک بھارت جنگ بندی کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ساز کاروبار کا آغاز ہوا، اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے تمام سابقہ ریکارڈز ٹوٹ گئے۔

تفصیلات کے مطابق 100 انڈیکس 9929 پوائنٹس کے اضافے سے 117174 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

کاروبار کے آغاز کے ابتدائی 2منٹ میں ریکارڈ نوعیت کی تیزی پر کاروباری سرگرمیوں کو ایک گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔

پی ایس ایکس ریگولیشن کے مطابق کے ایس ای 30انڈیکس 5فیصد سے زائد بڑھنے پر کاروبار معطل کیا گیا، 9 بجکر 37منٹ پر کاروبار کی معطلی کے بعد 10 بجکر 42منٹ پر کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک گھنٹے کی معطلی کے بعد کاروبار کا آغاز ہوا جس کے بعد بھی تیزی برقرار رہی، 100 انڈیکس 9475 پوائنٹس کے اضافے سے 116650پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں میڈیا سے گفتگو میں عارف حبیب نے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے کا غلط الزام لگایا، بڑا تاثر تھا کہ بھارت خطے کا سپر پاور بننے جا رہا ہے لیکن اب پوری دنیا کو علم ہوگیا ہے کہ پاکستان کی فوج اور عوام کس قدر مضبوط ہیں۔ بھارت نےاپنی عوام کو بھی گمراہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بہت مثبت اثرات کے ساتھ آگے آیا ہے، پاک آرمی کی استعداد کا پیغام دنیا کو چلا گیا، مسلم ممالک کی آبادیوں کا بڑا انحصار پاکستان پر ہوتا ہے اور مسلمانوں کو ایک بار پھر یقین ہوگیا۔

عارف حبیب نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی مہارت سے کامیابی کے ساتھ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور دنیا بھر میں بھارت کی بہت بدنامی ہوئی۔ پاکستان میں یکے بعد دیگرے اچھی خبریں آئی ہیں، پوری قوم متحد ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بجٹ کے حوالے سے میٹنگ کی ہے، وزیراعظم نےعندیہ دیا ہے کہ صنعت اور تنخواہ دار کو ریلیف دیں گے دنیا کو دکھا دیاپا کستان مضبوط ملک ہے اور چین نے واضح پیغام دیکر پاکستان کا ساتھ دیا۔

عارف حبیب نے کہا کہ پاکستان میں کچھ سیکٹرز انڈر یوٹیلائز ہیں، عام آدمی کو معاشی بہتری کے فوائد جانے چاہیئں۔ اشارے ملتے ہیں کہ آئی ایم ایف کا اعتماد قدرے بہتر ہے اور امید ہے کہ اگلے بجٹ میں بہتری کی جھلک نظر آئے گی۔ دوست ممالک کا اعتماد پاکستان پر بڑھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود کم ہوئی ہے جو 11فیصد پر آگئی ہے، اب ڈالر کی سرمایہ کاری منافع بخش نہیں اور ریئل اسٹیٹ ابھی اتنا متحرک نہیں، اس وقت ایکویٹی سرمایہ کاری بہتر آپشن ہے کیونکہ ایکویٹی مارکیٹ میں ہر سطح کے سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ میکرو اکنامک استحکام حاصل کرنا ہے اور اس وقت موقع ہے کہ میثاق معیشت کی بات ہو، پاکستان کی سب جماعتوں کی حکومتوں کی پالیسی تقریباً ایک جیسی ہے۔ تمام جماعتیں انجن آف گروتھ پرائیویٹ سیکٹر کو سمجھتی ہیں۔

عارف حبیب نے کہا کہ سیاستدان اختلافات کو ختم کرنے کا رواج پیدا کریں کیونکہ اس وقت اس پوزیشن میں ہیں کہ امید جگائیں، نوجوانوں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا اور جلد باور کروا دیں گے کہ پاکستان معاشی پاور بھی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات 8 مئی کو اسٹاک مارکیٹ میں 6948 پوائنٹس کی بڑی مندی کے باعث کاروبار معطل کر دیا گیا تھا جبکہ جمعے کو بھی مارکیٹ میں اتار چڑھاو رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عارف حبیب نے کہا کہ کہ پاکستان پاکستان اس پر کاروبار پوائنٹس کی مارکیٹ میں ہے اور کے بعد

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش