جنگی جنون میں مبتلا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتی فوج کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کی فضائیہ کا غرور و گھمنڈ فرانسیسی رافیل طیاروں سے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان پر کیے گئے بزدلانہ حملے نہ صرف ناکامی سے دوچار ہوں گے بلکہ پاک فضائیہ کے شاہین اپنی پیشہ ورانہ فنی مہارت سے رافیل طیاروں کو زمیں بوس کر دیں گے۔
خود فرانسیسی فوجی ماہرین حیران و پریشان ہیں کہ ان کے رافیل طیارے جو کسی بھی جنگ میں اب تک فتح کی علامت اور کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے کیسے پاکستانی ہوا بازوں کی کمال فنی ہنرمندی کا نشانہ بن کر اپنی تباہی کے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئے۔ پاکستان کی بہادر افواج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر نے اپنے وعدے کے مطابق ایسے منہ توڑ اور کاری وار سے فوری جواب دیا کہ مودی سرکار اور بھارتی فوج کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ لائن آف کنٹرول پر پاک فوج نے بھارت کی کئی چیک پوسٹ تباہ کر دیں اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو بھی نیست و نابود کر دیا۔ پاکستان کی جوابی کارروائی میں کئی بھارتی فوجیوں کے مرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔
پاک فوج کے طاقتور مہلک وار سے بھارتی فوج کے پاؤں اکھڑ گئے اور انھیں سفید جھنڈا لہرا کر اپنی شکست تسلیم کرنا پڑی۔ پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی کے باعث بھارتی فوج، عوام، میڈیا اور مودی حکومت میں ایسا اضطراب پھیلا کہ بھارت جو پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا بڑی فوجی طاقت رکھتا ہے، اربوں روپے کا جدید ترین اسلحہ اس کے پاس ہے، پھر کیسے اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے، کسھیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق مودی حکومت نے 7 اور 8 مئی کی درمیانی شب پھر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے لاہور، گوجرانوالہ، چکوال، راولپنڈی، بھاولپور اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں 25 سے زائد ڈرون حملے کیے تاہم پاک فوج نے اپنی روایتی فنی مہارت کا شان دار مظاہرہ کرتے ہوئے تمام بھارتی ڈرونز گرا دیے۔
پے در پے ناکامیوں کے باعث مودی حکومت شدید جھنجھلاہٹ، بدحواسی اور انتقامی جنون میں مبتلا ہو گئی تھی۔قومی سلامتی کے اجلاس میں پاک فوج کو بھارتی حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر اختیار دے دیا گیا ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بجا طور پر کہا کہ ہماری بہادر افواج نے صرف چند گھنٹے ہی میں کئی گنا بڑے دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ بھارت نے جارحیت کرکے جو فاش غلطی کی ہے اس کا خمیازہ اب اسے ضرور بھگتنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں تمام سروسز چیفس اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ صرف وزیر اعظم ہی نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کو سلام محبت پیش کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ وہ قوت کے ساتھ اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ جنگ لڑنے اور بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے قدم قدم ساتھ کھڑے ہیں۔
سابق فوجیوں کی تنظیم پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے ہمیں بھارت سے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ سندھ ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کے روح رواں بریگیڈیئر بشیر آرائیں نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ 20 لاکھ ٹرینڈ غازی اپنی قوم اور پاک فوج کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دشمن کو سبق سکھانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاک فوج کا ایک ایک سپاہی انڈیا کے خلاف جنگ میں جذبہ ایمانی کا ایٹم بم بنا ہوا ہے۔ یہی حقیقت بھی ہے کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تمام طبقہ ہائے فکر ایک پیج پر اور ایک آواز ہیں۔ سیاست دان سے لے کر عوام تک اور مزدور سے لے کر صنعت کار تک اور قومی میڈیا سب پاک فوج کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار کی طرح مضبوطی کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کھڑے ہیں جب کہ بھارت میں مودی سرکار کو اپنے ہی لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بھارت کے سنجیدہ فکر حلقے مودی کے جنگجویانہ عزائم کے خلاف ہیں۔ عالمی برادری بھی پاک بھارت کشیدگی اور مودی جنگی صورت حال میں بھارت کی جارحیت کی حمایت نہیں کر رہی ہے جو خوش آیند بات ہے پاکستان تو واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ ہم پہل نہیں کریں گے لیکن بھارت کی ہر جارحیت اور حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔پاکستان نے دندان شکن بھرپور جواب دیتے ہوئے بھارت کے 26 مقامات پر زور دار حملے کیے اور ان کی بیشتر ایئرفیلڈ کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جن میں سب سے زیادہ اہم آدم پور کے مضبوط ترین ایئربیس سسٹم S-400 کو تباہ کر دیا۔ یہ سسٹم بھارت کا غرور تھا، جہاں سے وہ پاکستان پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ اس سسٹم کی مالیت 1.
پاک ایئرفورس سائبر ونگ نے بھارت کی اہم ترین ویب سائٹ کو ہیک کرکے بھارت کا سسٹم جام کر دیا۔ پاک فوج نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ بھارت کے خلاف آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ یعنی سیسہ پلائی دیوار کا بھرپور طریقے سے آغاز کر دیا، جیساکہ تینوں مسلح بری، بحری اور ہوائی فورسز کے ترجمانوں نے اپنی مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارت اور دنیا پر واضح کر دیا تھا کہ ہم بھارت کے حملوں کا ہر صورت لازمی جواب دیں گے۔
آدم پور میں S-400 ایئرڈیفنس سسٹم کی تباہی اور رافیل طیاروں کی زمین بوسی سے درحقیقت بھارت کا غرور خاک میں مل چکا تھا اور پھر اچانک کہانی میں ایک نیا موڑ آیا اچانک امریکی صدر نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا امریکا کی ثالثی میں رات بھر طویل مذاکرات کے بعد مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔دونوں ممالک کو مبارک باد دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا پاکستان اوربھارت نے ہوش مندی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ہفتے کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تاریخی فتح پر قوم کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا پاکستان کی بہادر اور پیشہ ورانہ مسلح افواج نے دشمن کو اسی کی زبان میں موثر اور بھرپور جواب دے کر عسکری تاریخ کا سنہرا باب رقم کیا ہے اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہمارا سرفخر سے بلند کردیا،یہ ہماری غیرت اور اصولوں کی فتح ہے۔ پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہم نے خطہ کے کروڑوں عوام کے مفاد میں جنگ بندی کی تجویز کا مثبت جواب دیا ہے۔ کامل یقین ہے آبی وسائل کی تقسیم،جموں و کشمیر تنازع سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے کے لیے پرامن مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا۔
پاکستان کے جوابی حملوں سے بھارت کا غرور خاک میں مل گیا ہے۔ اس کا گھمنڈ زمیں بوس ہوگیا ہے اور اس کی ناک کٹ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھرپور جواب بھارتی فوج کرتے ہوئے بھارت کے بھارت کی کہ بھارت بھارت کا پاک فوج کے خلاف کا غرور فوج کے کر دیا
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب