پاکستان نے بھارت کے خلاف صرف اپنا حق دفاع استمال کیا، اسحاق ڈار کی فرانسیی ہم منصب سے گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے فرانس کے وزیر برائے یورپ اور خارجہ امور ژاں نوئل بیرو کا ٹیلفونک رابطہ ہوا جس میں فرانسیسی وزیر کو بتایا گیا کہ بھارت کے ساتھ فوجی کشیدگی کے دوران پاکستان نے اقوام متحدہ چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اپنا حق دفاع استعمال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، پاک بھارت جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیدیا
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے ژاں نوئل بیرو کو یہ بھی بتایا کہ علاقائی امن و سلامتی کی خاطر پاکستان اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔
فرانسیسی وزیر خارجہ نے واقعے میں معصوم شہریوں کی شہادت پر تعزیت کی اور جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں اطراف کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیے: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا برطانوی سیکریٹری خارجہ سے رابطہ، دو طرفہ تعاون میں اضافے پر اتفاق
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور کثیرالقومی فورمز کے ذریعے سے قریبی رابطہ رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ژاں نوئل بیرو فرانس نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ژاں نوئل بیرو نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اسحاق ڈار
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔