سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگی اقدام تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غیر ملکی میڈیا سے دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ہمارے جوابی حملوں کے بعد امریکہ کو احساس ہوا کہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہفتے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارتی وزیر خارجہ اور مجھ سے رابطہ کیا تھا۔ مارکو روبیو نے کہا بھارت جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔ کیا آپ آمادہ ہیں۔ اور میں نے کہا اگر بھارت دوبارہ جارحیت کا آغاز نہ کرے تو ہم نہیں کریں گے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے عملی طور پر دیکھا کہ پاک بھارت فضائیہ کے درمیان کیا ہوا۔ اور ہم پہلی بار بھارتی جارحیت کا رد عمل دے رہے تھے۔ بھارت کو احساس ہوا کہ ان کا اندازہ غلط تھا اور انہیں کتنا نقصان ہوا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یقین دہانی کرائی کہ ہماری جانب سے جنگ بندی کی رضا مندی پر سیکرٹری روبیو بھارت سے دوبارہ تصدیق کریں گے۔ بات چیت کے لیے دونوں فریقین کو متفق ہونا ہو گا۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ تاہم ہم بات چیت کے ذریعے خطے کے معاملات کا حل چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔