امریکی صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے 4 روزہ دورے کے آغاز میں سعودی عرب پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے 4 روزہ دورے کے آغاز میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے، جہاں سعودی ولی عہد اور عملی حکمراں محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا اور ملاقات بھی کی، اس موقع پر امریکی صدر کو روایتی قہوہ بھی پیش کیا گیا۔
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کی صبح سعودی دارالحکومت ریاض پہنچے، جو ان کے 4 روزہ دورے کا پہلا پڑاؤ ہے، صدر ٹرمپ اس دورے میں قطر اور متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔
یہ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد پہلا بڑا غیر ملکی دورہ ہے، جس کا زیادہ تر محور تیل سے مالا مال خطے سے تجارتی معاہدے اور نئی سرمایہ کاری کی کوششیں ہوں گی۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر کو سیکیورٹی سے متعلق خدشات کا سامنا ہے، جن کا اظہار موجودہ اور سابق امریکی فوجی، دفاعی اور خفیہ سروس اہلکاروں نے کیا ہے، یہ خدشات قطر کی جانب سے امریکا کو ایک پرتعیش طیارہ بطور تحفہ دینے کی پیشکش پر اٹھائے جا رہے ہیں، جو مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کے استعمال کے لیے ہوگا۔
امریکی میڈیا کے مطابق دورے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان بات چیت متوقع ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی امریکی کوششیں، غزہ کی جنگ کا خاتمہ، تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا، اور دیگر اہم معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم