امریکا میں تعینات سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ سعودی عرب عالمی امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔

واشنگٹن ٹائمز میں 12 مئی کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں شہزادی ریما نے لکھا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار شراکت داری کی علامت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج جب دنیا نئے چیلنجز اور تنازعات سے گزر رہی ہے، تو یہ شراکت داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوچکی ہے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں یہ ان کا پہلا سرکاری دورہ ہے اور اس موقع پر وہ سعودی ویژن 2030 کے تحت ہونے والی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی اصلاحات کا مشاہدہ کریں گے۔

مزید پڑھیں: دورہ مشرق وسطیٰ کا آغاز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب پہنچ گئے

شہزادی ریما نے لکھا کہ اس بار امریکی صدر کو ایک بدلتا ہوا سعودی عرب نظر آئے گا، جہاں ویژن حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب سعودی عرب میں غیر تیل معیشت ملکی مجموعی پیداوار (GDP) کا 50 فیصد حصہ فراہم کررہی ہے، جو ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین افرادی قوت کا 40 فیصد حصہ ہیں اور متعدد خواتین قیادت کے اہم عہدوں پر کام کررہی ہیں، جہاں انہیں مردوں کے برابر حقوق اور تنخواہیں حاصل ہیں۔

شہزادی ریما نے کہا کہ سعودی نوجوان فنون، سائنس، کھیل اور تفریح کے میدانوں میں ایک نئے دور کا آغاز کرچکے ہیں، جبکہ ثقافتی ورثے کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جارہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے اعزاز میں منگل کو ریاض کے رِٹز کارلٹن ہوٹل میں ایک اعلیٰ سطحی سعودی-امریکا سرمایہ کاری فورم منعقد ہوگا، جس میں ایلون مسک، مارک زکربرگ اور لیری فنک جیسے عالمی کاروباری شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ تقریب میں سعودی عرب کے 15 وزرا، سرکاری حکام اور گِگا منصوبوں کے سربراہان کے ساتھ دونوں ممالک کے سینکڑوں سرمایہ کار بھی شریک ہوں گے۔

شہزادی ریما نے کہا کہ آج کا سعودی عرب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ذریعے نئے معاشی شعبوں جیسے سیاحت، مصنوعی ذہانت، صاف توانائی، ثقافت اور کھیلوں کو فروغ دے رہا ہے۔ نوجوان مستقبل کی قیادت کررہے ہیں اور خواتین وژن کے مرکز میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے مطابق پائیدار شراکت داری کا آغاز باہمی مفادات سے ہوتا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے اگلے 4 سالوں میں امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ دونوں ممالک کی خوشحالی اور ویژن 2030 کے اہداف کو آگے بڑھائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکا اور سعودی عرب میں سول نیوکلیئر انرجی پر تاریخی معاہدے کی تیاری

2017 میں دونوں ممالک کے درمیان 400 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدے طے پائے تھے۔ 2018 میں ولی عہد نے کہا تھا کہ کچھ ہتھیار سعودی عرب میں تیار کیے جائیں گے، جو امریکا اور سعودی عرب دونوں میں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور باہمی سلامتی کو مضبوط کریں گے۔

شہزادی ریما نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کی شراکت عالمی بحرانوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے، جیسے یوکرین، غزہ، شام اور سوڈان کے تنازعات۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر بڑا عالمی چیلنج سعودی-امریکا شراکت کے ذریعے مؤثر طریقے سے حل کیا جارہا ہے۔ قیادت اور اتحاد آج کے غیر یقینی عالمی منظرنامے میں پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچکے ہیں۔

شہزادی ریما نے مزید کہا کہ یہ ایک نیا سعودی عرب ہے اور ہم امریکی عوام کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ قریب سے دیکھیں کہ ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: نے مزید کہا کہ دونوں ممالک سرمایہ کاری نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل