جے شاہ نے بھارت کا تماشا بنوادیا، بھارتی شائقین کی مودی سرکار اور کرکٹ بورڈ پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
ایشیا کپ میں اوچھی حرکتیں کرنے اور کھیل کی روح کے منافی اقدامات پر بھارتی ٹیم اور بورڈ کو شدید ہرزہ سرائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بائیکاٹ کے دباؤ کے زیر اثر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ میں اب تک دو میچز کھیلے جاچکے ہیں جبکہ فائنل میں بھی دونوں ٹیمیں آمنے سامنے آئیں گی۔
ایونٹ کے آغاز سے قبل ہی بھارتی بورڈ پر پاکستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے لیے دباؤ بڑھنے لگا تھا۔
تاہم بی سی سی آئی نے بائیکاٹ کرنے کے بجائے اوچھی حرکتیں کرنے کا فیصلہ کیا اور کھیل کی روح کے منافی اقدامات کیے جس پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بی سی سی آئی کے سربراہ جے شاہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے کہا کہ جے شاہ نے پاکستان سے میچ کھیل کر بھارت کا تماشا بنوا دیا ہے۔
چِیکاں ???????????? pic.
بھارتی کپتان پر جرمانہ عائد ہونے پر ایک صارف لکھا کہ جے شاہ بھارت کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
Jay Shah is betraying India ????
— Vishal Nama (@VishalNama18) September 27, 2025ایک صارف نے اس معاملے کو بی سی سی آئی کے لیے شرمناک قرار دے دیا۔
What a shame... ICC headed by Jay Shah s/o Amit Shah fines India captain Suryakumar Yadav 30% of his match fee for remarks after the Pakistan game, where he DEDICATED the win to Pahalgam attack victims.
And in a sham BCCI has filed an APPEAL against the SANCTION#AsiaCup2025 pic.twitter.com/ba4CGSB533
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جے شاہ
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔