امریکی ناظم الامور کا دورہ کراچی، سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (صباح نیوز)پاکستان میں امریکی مشن کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے 23سے 26 ستمبر تک کراچی کا دورہ کیا جس کا مقصد امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے مواقع کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور گورنر کامران ٹیسوری سمیت کاروباری رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں اور توانائی، ٹیکنالوجی، معدنیات و ٹیکسٹائل کے شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی۔ اپنے دورے کے دوران انہوں
نے امریکی بحری جہاز کے کراچی آمد پر پاک بحریہ کے ساتھ مشترکہ تقریب میں شرکت کی اور ڈیف ریچ اسکول کا بھی دورہ کیا، جہاں سماعت سے محروم بچوں کے لیے کے ایف سی پاکستان کی سماجی خدمات کو سراہا۔ نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان معاشی تعاون دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، اب تک 80 امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر چکی ہیں جو لاکھوں افراد کو براہِ راست و بالواسطہ روزگار فراہم کر رہی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکا تجارت، سرمایہ کاری اور اختراع کے ذریعے پاکستان کی ترقی اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔