نامور وکیل اور سیاستدان چوہدری اعتزاز احسن آج اپنی 80ویں سالگرہ منا رہے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
نامور وکیل اور سیاست دان چوہدری اعتزاز احسن آج اپنی 80 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔
چوہدری اعتزاز احسن کی وراثت محض مقدمات جیتنے یا انتخابات لڑنے تک محدود نہیں، اِن کی وراثت ایک مستقل نظریہ ہے جس کا محور آئین اور جمہوریت ہے، انہوں نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے وکیل کی حیثیت سے وکلاء تحریک میں حصہ لیا۔
اعتزاز احسن کی شہرت کا بامِ عروج وکلاء تحریک کا حصہ تھا جس نے عدلیہ کی بحالی میں فیصلہ کُن کردار ادا کیا۔
سیاست کے آغاز سے ہی اعتزاز احسن مضبوط اور اصولوں پر قائم آواز کے طور پر اُبھرے۔
چوہدری اعتزاز احسن کو قوم کا آئینی ضمیر بھی کہا جاتا ہے، وہ ملک کے نامور قانون دان، قابل سیاست دان اور دانشور کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
اعتزاز احسن نے بطور مصنف اپنا مقام اس وقت منوایا جب ان کی جیل میں لکھی کتاب ’انڈس ساگا‘ نے شہرت حاصل کی۔
جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کی جدوجہد کا سفر اپنی مثال آپ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: چوہدری اعتزاز احسن
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔