ہم پُرامن قوم ہیں مگر کسی بھی جارحیت کا جواب دینا جانتے ہیں، شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص نے بھارت کو بھرپور جواب دیا، بھارت کو واضح کیا کہ خطے کے ممالک کی سالمیت، خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا، افواج پاکستان نے بھارت کی عددی برتری کی خوش فہمی اورغرور خاک میں ملا دیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی جارحیت میں خواتین اور بچوں سمیت 40 معصوم لوگوں کی شہادت پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے وطن کو نہ بھولے ہیں نہ بھولیں گے۔ وزیراعظم نے خواتین اور بچوں سمیت 40 معصوم لوگوں کی شہادت پر غم کا اظہار کیا اور شہداء کئ بلندی درجات اور ان کے اہلخانہ کیلئے صبر کی دعا کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ شہداء پیکیج کا اعلان کیا جا چکا ہے، شہداء کے اہلخانہ کی کفالت کی ذمہ داری ریاست بھرپور طور سے انجام دے گی، ان کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپریشن بنیان مرصوص نے بھارت کو بھرپور جواب دیا، بھارت کو واضح کیا کہ خطے کے ممالک کی سالمیت، خودمختاری کا احترام کرنا ہوگا، افواج پاکستان نے بھارت کی عددی برتری کی خوش فہمی اورغرور خاک میں ملا دیا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہم پُرامن قوم ہیں مگر کسی بھی جارحیت کا جواب دینا جانتے ہیں اور آپریشن بنیان مرصوص اس کا واضح ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔