انڈیا کے ساتھ حالیہ لڑائی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا.وزیرخزانہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 13 مئی ۔2025 ) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ لڑائی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا برطانوی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ حالیہ فوجی کشیدگی کا پاکستان پر کوئی بڑا مالی اثر نہیں پڑے گا اور اس کے نتیجے میں کسی نئے معاشی جائزے کی ضرورت نہیں پڑے گی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں ممکنہ طور پر ”شارٹ آرڈر“ میں پیش رفت کی امید ہے اور یہ کہ پاکستان امریکہ سے اعلیٰ قسم کی کپاس، سویا بین درآمد کر سکے گا.
(جاری ہے)
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے ہائیڈرو کاربن سمیت دیگر اشیا کی درآمد پر بھی غور کر رہا ہے خیال رہے کہ امریکہ نے پاکستانی مصنوعات کی درآمد پر 29 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا تاہم اپریل میں اس پر عملدرآمد 90 روز کے لیے موخر کر دیا گیا تھا امریکہ کے ساتھ پاکستان کا تجارتی سرپلس تقریباً تین ارب ڈالرز ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے. پیر کے روز وائٹ ہاﺅس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے تجارت اور ٹیرف کے ذریعے پاکستان اور انڈیا کے درمیان تنازع کے حل میں کلیدی کردار ادا کیا تھاان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا ہم آپ لوگوں کے ساتھ بہت تجارت کریں گے آئیے لڑائی کو روکتے ہیں اگر آپ اسے روکیں گے تو ہم تجارت کریں گے ورنہ ہم آپ سے کوئی تجارت نہیں کریں گے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ لوگوں نے تجارت اس طرح استعمال نہیں کی جیسے میں نے کی ہے ہم انڈیا اور پاکستان کے ساتھ بہت تجارت کریں گے ہم انڈیا سے تجارت اور ٹیرف پر مذاکرات کر رہے ہیں جلد ہم پاکستان سے بھی مذاکرات کریں گے. دوسری جانب پاکستانی پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت و تجارت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک پاکستان اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت 5.53 ارب ڈالرز رہی پارلیمانی سیکرٹری کے مطابق اس عرصے کے دوران پاکستان کی امریکہ کو برآمدات 4.34 ارب ڈالرز رہی جبکہ امریکہ سے 1.19 ارب ڈالرز کی مصنوعات درآمد کی گئیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ارب ڈالرز انڈیا کے نہیں پڑے کا کہنا کے ساتھ کریں گے تھا کہ
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔