وفاقی حکومت کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہو گیا ہے اس حوالے سے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی حکومت کے قرضوں سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق حکومت کے قرضوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 25 میں وفاقی حکومت کے مجموعی قرض ماہانہ 0.

9 فیصد اور 12.70 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مارچ 2025 میں وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ 73 ہزار 688 ارب روپے کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔وفاقی حکومت کے مارچ 2025 کے دوران ایک ماہ میں مجموعی قرض میں 652 ارب روپے کا اضافہ ہوا جب کہ مارچ 2025 تک ایک سال میں مجموعی قرض میں 8314 ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2024 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرض کا حجم 65 ہزار 374 ارب روپے تھا۔

مارچ 2025 میں حکومت کے مقامی قرض میں ماہانہ ایک فیصد اور سالانہ 18.60 فیصد کا اضافہ ہوا۔ سٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 25 میں حکومت کے مقامی قرض 51 ہزار 518 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے جو ایک سال قبل مارچ 2024 میں 43 ہزار 432 ارب روپے تھا۔مارچ 25 میں حکومت کے بیرونی قرض میں ماہانہ 0.70 فیصد اور سالانہ ایک فیصد اضافہ ہوا اور بیرونی قرض بڑھ کر 22 ہزار 170 ارب روپے ہو گیا۔ جب کہ مارچ 2024 میں حکومت کے بیرونی قرض کا حجم 21 ہزار 942 ارب روپے تھا۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: حکومت کے قرضوں وفاقی حکومت کے میں حکومت کے حکومت کے قرض سٹیٹ بینک اضافہ ہوا ارب روپے کہ مارچ گیا ہے

پڑھیں:

پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی

اپر دیر:

سیاحتی مقام کمراٹ میں برف پگھلنے سے دریا کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہونے لگا جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔

سیاحتی مقام وادی کمراٹ کی بائی پاس سڑک دریا کے پانی میں بہہ گئی تاہم گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔

وادی کمراٹ بائی پاس روڈ پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہونے کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار بہہ گیا تاہم مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے موٹر سائیکل سوار کو بچایا لیا جبکہ موٹر سائیکل پانی میں لاپتا ہوگئی۔

دوسری جانب، پی ڈی ایم اے کی جانب سے گزشتہ روز ہونے والی تیز ہواؤں، آندھی اور بارش کے باعث گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے سے ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی گئی۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز آندھی اور بارش کے باعث آسمانی بجلی اور  گھروں کی دیواریں گرنے سے اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے۔ جاں بحق افراد میں دو مرد جبکہ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔

حادثات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور آپس میں قریبی رابطہ میں ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے تمام متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی۔ بارش اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے عوام کسی بھی معلومات، آگاہی یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع 1700 پر دیں۔

متعلقہ مضامین

  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ