نرسوں کی تعداد میں اضافہ لیکن طبی خدمات میں عدم مساوات موجود
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 13 مئی 2025ء) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اس کے شراکت داروں نے بتایا ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ پانچ سال کے دوران صحت کے شعبے میں نرسوں کی تعداد 19 لاکھ بڑھ گئی ہے لیکن ہر جگہ ان کی خدمات مساوی طور پر دستیاب نہیں ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او'، نرسوں کی بین الاقوامی کونسل اور دیگر اداروں کی جانب سے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے اس طبی عملے سے متعلق رواں سال کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018 میں دنیا بھر میں نرسوں کی تعداد 27.
تاہم خدمات کی فراہمی کے حوالے سے پائی جانے والی عدم مساوات کے باعث دنیا کے بہت سے علاقوں میں لوگوں کو ضروری طبی خدمات تک رسائی نہیں ملتی جس سے عالمگیر تحفظ صحت پر منفی اثر پڑتا ہے۔
(جاری ہے)
'نرسوں کے عالمی دن' پر جاری کردہ یہ رپورٹ 194 ممالک سے حاصل کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 میں دنیا میں 6.2 ملین نرسوں کی کمی تھی۔ 2023 میں اس تعداد میں بہتری آئی اور یہ فرق 5.8 ملین رہ گیا تھا۔ اندازے کے مطابق 2030 تک یہ فرق مزید کم ہو کر 4.1 ملین رہ جائے گا۔
تعداد اور دستیابی میں فرقرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پیش رفت مختلف علاقوں میں نرسوں کی دستیابی میں پائے جانے والے فرق کو چھپا دیتی ہے۔
اس کا اندازہ یوں ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 78 فیصد نرسوں کا تعلق ایسے ممالک سے ہے جن کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا 49 فیصد ہے۔کم اور متوسط درجے کی آمدنی والے ممالک میں نرسوں کو تعلیم و تربیت اور نوکری دینا اور انہیں اس کام پر برقرار رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ اس مقصد کے لیے ملکی سطح پر طبی نظام پر سرمایہ کاری بہت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں، بلند آمدنی والے ممالک میں نرسوں کی بڑی تعداد ریٹائر ہو رہی ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے ایسے ممالک کو مبارک باد دی ہے جنہوں نے نرسوں کی تعداد بڑھانے اور تمام لوگوں کے لیے ان کی مساوی دستیابی ممکن بنانے کے لیے کام کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ نرسوں کی تعداد اور دستیابی کے حوالے سے فرق پوری دنیا میں پایا جاتا ہے اور رکن ممالک کو اس رپورٹ کے نتائج کا جائزہ لے کر جلد جلد از اس مسئلے کا حل نکالنا ہو گا۔
رپورٹ کے اہم نتائجنرسوں کو صنفی نمائندگی اور مساوات کے حوالے سے بھی مسائل کا سامنا ہے۔ اس شعبے میں بڑی تعداد خواتین کی ہے جو نرسنگ میں عالمگیر افرادی قوت کے تقریباً 85 فیصد کی نمائندگی کرتی ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سات میں سے ایک نرس کا تعلق اس ملک سے نہیں ہوتا جہاں وہ خدمات انجام دیتی ہیں۔ بلند شرح آمدنی والے ممالک میں یہ تناسب 23 فیصد جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں 8 فیصد ہے۔
کم آمدنی والے ممالک میں تعلیم مکمل کرنے والی نرسوں کی تعداد بلند آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں بڑھ رہی ہے۔ بعض ممالک میں گریجوایشن مکمل کرنے والی نرسوں کی شرح میں اضافے کے باوجود ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ لوگوں کی بڑھتی عمر اور روزگار کے مواقع میں کمی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
دنیا بھر میں اس شعبے کی افرادی قوت نسبتاً کم عمر ہے۔
33 فیصد نرسوں کی عمر 35 سال سے کم ہے جبکہ 19 فیصد آئندہ 10 سال میں ریٹائر ہو جائیں گی۔ 62 فیصد ممالک میں نرسوں کو حساس نوعیت کی طبی نگہداشت سونپی جاتی ہے جبکہ 2020 میں یہ تعداد 53 فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق، طبی دیکھ بھال کرنے والے اس عملے کی ذہنی صحت و بہبود سے متعلق حالات بھی کچھ اچھے نہیں ہیں اور صرف 42 فیصد ممالک کے ہاں ہی نرسوں کے لیے ذہنی صحت کے حوالے سے مدد دستیاب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے آمدنی والے ممالک میں نرسوں کی تعداد دنیا بھر میں میں نرسوں کی کے حوالے سے کے لیے
پڑھیں:
نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
برطانوی اداکار ادریس ایلبا شاید نئے جیمز بانڈ نہ بن سکیں، لیکن اب وہ برطانیہ کے نئے نائٹس یعنی سر کے خطاب پانے والوں میں ضرور شامل ہو گئے ہیں۔
منگل کے روز کنگ چارلس نے ونڈسر کیسل میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں ادریس ایلبا سمیت متعدد نمایاں شخصیات کو شاہی اعزازات سے نوازا۔
روایتی تقریب کے دوران بادشاہ نے تلوار کے ذریعے انہیں نائٹ ہڈ کا اعزاز عطا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی فٹبال لیجنڈ ڈیوڈ بیکہم کو شاہ چارلس کی جانب سے نائٹ کا اعزاز
ادریس ایلبا نے بعد ازاں انسٹاگرام اسٹوری پر اپنی اہلیہ سیبرینا ایلبا کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ہم شکر گزار ہیں، اور ہمارا کام جاری رہے گا۔‘
ٹی وی سیریز دی وائر اور لوتھر میں اپنی شاندار اداکاری کے لیے مشہور ادریس ایلبا کو نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کی ترقی کے لیے خدمات کے اعتراف میں نائٹ کا خطاب دیا گیا ہے۔
2022 میں ادریس ایلبا اور ان کی اہلیہ نے ایلبا ہوپ فاؤنڈیشن قائم کی تھی، جس کا مقصد برطانیہ، امریکا اور افریقہ میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا، نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنا، اور تعلیم و
سماجی بااختیاری کے منصوبوں کی حمایت کرنا ہے۔
That's Sir Idris Elba to you. ???? He poses with Sabrina Dhowre Elba after being awarded knighthood by King Charles at Windsor Castle.pic.twitter.com/U3Mtee1sJf
— Terrible Pics (@TerriblePic) June 2, 2026
ادریس ایلبا دی کنگس ٹرسٹ کے خیر سگالی سفیر بھی ہیں، یہ فلاحی ادارہ 1976 میں اُس وقت کے شہزادہ چارلس نے نوجوانوں کی مدد کے لیے قائم کیا تھا۔
اداکار، موسیقار اور سماجی کارکن ادریس ایلبا، جو آرسینل ایف سی کے دیرینہ مداح ہیں، نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ خوشی سے اچھلتے ہوئے ’سر ایلبا‘ نام والی نئی
آرسنل جرسی تھامے نظر آئے۔
View this post on Instagram
A post shared by Idris Elba (@idriselba)
ادریس ایلبا اور کنگ چارلس اس وقت ایک نیٹ فلکس دستاویزی فلم پر بھی مل کر کام کر رہے ہیں، جو دی کنگز ٹرسٹ کے قیام کے 50 سال مکمل ہونے کے موقع پر بنائی جا رہی ہے، جس کی
نمائش رواں سال خزاں میں متوقع ہے۔
ادریس ایلبا کی فنونِ لطیفہ میں کامیابی کی کہانی کا آغاز بھی شاہی فلاحی ادارے سے جڑا ہوا ہے، 18 سال کی عمر میں انہیں اس وقت کے پرنسز ٹرسٹ سے گرانٹ ملی تھی، جس کی مدد سے
انہوں نے نیشنل یوتھ میوزک تھیٹر میں داخلہ لیا اور اداکاری کی تعلیم حاصل کی۔
مزید پڑھیں: کنگ چارلس کا اپنی بگڑتی صحت کا اعتراف
تقریب میں دیگر اعزاز یافتگان میں اولمپک آئس ڈانسنگ چیمپئنز جین ٹورویل اور کرسٹوفر ڈین بھی شامل تھے، جنہیں آئس اسکیٹنگ اور رضاکارانہ خدمات کے اعتراف میں نائٹ اور ڈیم کے
اعزازات دیے گئے۔
معروف کامیڈین اور مصنفہ میرا سیال کو ادب، ڈرامہ اور فلاحی خدمات پر اعزاز سے نوازا گیا، جبکہ کامیڈین پال ایلیٹ کو سماجی خدمات کے اعتراف میں ممبر آف دی آرڈر آف دی برٹش ایمپائر
کا اعزاز دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادریس ایلبا پال ایلیٹ جین ٹورویل سر ایلبا کرسٹوفر ڈین کنگ چارلس میرا سیال نائٹ ہڈ نیشنل یوتھ میوزک تھیٹر