آئی ایم ایف نے بجلی چوری روکنے، لائن لاسز میں کمی کیلئے تجاویز طلب کر لیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اسلام آباد( نمائندہ خصوصی )آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی مذاکرات جاری رہے اور گزشتہ روز پاور سیکٹر کے حوالے سے اعدادوشمار پر بات چیت ہوئی‘ذرا ئع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے پاور سیکٹرکو یہ کہا گیا ہے کہ بجلی چوری روکنے لائن نقصانات اور کپیسٹی چارجز میں کمی کے حوالے سے تجاویز دی جائیں،بات چیت کے اس دور میں سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بلز میں دیئے جانے والے ریلیف کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی اور حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں مزید ریلیف کی ضرورت رہے گی،اجلاس میں سیلاب متاثرین کو بجلی کے حوالے سے اب تک فراہم کی جانے والی ریلیف کے مالی بوجھ اور نقصانات کے تخمینوں سے آگاہ کیا گیا‘ سیلاب زدہ علاقوں کی بجلی پر ریلیف دینے کے لئے تجاویز کی روشنی میں پالیسی سطح پر مزید بات چیت ہو گی ،ذرا ئع کا کہنا ہے کہ فنڈ کو بتایا گیا کہ حکومت نے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ختم کرنے کے لیے تین سے چھ سال کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت بتدریج بہتری لائی جائے گی ، آئی ایم ایف کو ڈی جی پاور پلانٹس کے ساتھ مذاکرات کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا آئی ایم ایف کے وفد کو تین ڈسکوز کی نجکاری پر ہونے والی پیشرفت بریفنگ دی گئی،حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ بینکوں نے 1.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بتایا گیا کہ ا ئی ایم ایف کے حوالے سے ارب روپے بات چیت
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔