data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں پاکستان کے سیکنڈ سیکریٹری محمد راشد نے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے خطے میں دہشت گردی، انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی جبر کا اصل ذمہ دار قرار دے دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے سیکنڈ سیکریٹری نے اپنے خطاب میں بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کشمیر سے کلبھوشن یادو تک ٹھوس شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھ دیے۔

پاکستانی مندوب نے بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ایک بار پھر جھوٹے بیانیے اور بے بنیاد الزامات دہرا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی مگر یہ بیانات ہمیشہ کی طرح حقائق سے عاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور یہ قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کی عالمی کوششوں میں ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

محمد راشد نے اپنے خطاب میں تین نکات اجاگر کیے، جس میں  اول بھارت غیر قانونی طور پر مقبوضہ علاقوں پر قابض ہے اور کشمیری عوام کو ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہا ہے، جہاں ماورائے عدالت قتل، جبری گرفتاریاں اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں معمول بن چکی ہیں،  دوم بھارت سرحد پار دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر اور خفیہ ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن یادو کی گرفتاری ہے، جو پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث پایا گیا،  سوم بھارت ہر واقعے کا الزام بلا ثبوت پاکستان پر ڈال دیتا ہے، جیسا کہ پہلگام واقعے کے بعد کیا گیا۔ پاکستان نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی پیشکش کی مگر بھارت نے فوراً انکار کردیا اور آج تک کوئی ثبوت فراہم نہ کرسکا۔

پاکستانی مندوب نے بتایا کہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر بھارت نے 7 تا 10 مئی پاکستان پر کھلی جارحیت کی، جس میں 54 معصوم شہری شہید ہوئے، جن میں 15 بچے اور 13 خواتین شامل تھیں۔  اس کے جواب میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا اور بھارتی فضائیہ کو نمایاں نقصان پہنچایا۔

محمد راشد نے خبردار کیا کہ بھارت کا رویہ عالمی قوانین کے لیے نہایت خطرناک نظیر قائم کر رہا ہے،  یہ وہ راستہ ہے جسے وہ ممالک اپناتے ہیں جو سرحد پار جارحیت، قتل و غارت اور دھمکیوں کے ذریعے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو بھارت کے غیرقانونی اور غیرذمہ دارانہ اقدامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستانی سفارتکار نے واضح کیا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور جنوبی ایشیا کے 1.

9 ارب عوام خوشحالی اور استحکام کے مستحق ہیں لیکن یہ مقاصد دھمکیوں اور خوف کی فضا میں حاصل نہیں ہو سکتے۔

 انہوں نے کہا کہ حقیقی ترقی کے لیے خلوص، باہمی احترام، مکالمہ اور سفارت کاری ضروری ہیں، یہی وہ اصول ہیں جنہیں پاکستان ہمیشہ مقدم رکھتا آیا ہے،  بھارت کو بھی بالآخر اسی راستے کو اختیار کرنا ہوگا اگر وہ واقعی امن کا خواہاں ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد

بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی

ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد