لاہور:

فیکٹری ایریا پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اغواء کے مقدمے میں مطلوب بچے کو تلاش کرکے والدین سے ملوا دیا۔

ایس پی کینٹ کی ہدایت پر ایس ایچ او فیکٹری ایریا اشفاق خان نے 15 کی کال پر فوری ایکشن لیا۔ فیکٹری ایریا پولیس نے والدین کی پریشانی کو خوشی میں بدل دیا۔

پولیس کے مطابق 10 سالہ ارسلان گھر سے اسکول گیا تھا اور اسکول یونیفارم میں ہی راستے میں جھولے پنگوڑے سے کھیلتا رہا اور واپس گھر نہ پہنچا تھا۔

ایس پی کینٹ کی ہدایت پر فیکٹری ایریا پولیس نے بچے کے والد ممتاز احمد کی درخواست موصول ہونے پر نا معلوم افراد کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کیا۔ ایس پی کینٹ کی جانب سے اے ایس پی ڈیفنس شہر بانو نقوی کی سربراہی میں بچے کو فوری تلاش کرنے کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی۔

ایس پی کینٹ قاضی علی رضا کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں کے اندر ایس ایچ او فیکٹری ایریا اشفاق خان نے پولیس ٹیم کے ہمراہ بچے کو بحفاظت تلاش کر لیا، بچے کی تلاش کے لیے سیف سٹی کیمروں جدید ٹیکنالوجی اور ہیومین ریسورس سے مدد حاصل کی گئی، 10 سالہ ارسلان کے بحفاظت ملنے پر والدین نے پولیس کا شکریہ ادا کیا اور دعائیں دی۔

پولیس افسر نے ایس ایچ او فیکٹری ایریا اشفاق خان اور پولیس ٹیم کو تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا۔

ایس پی کینٹ کیپٹن ریٹائرڈ قاضی علی رضا کا کہنا تھا کہ پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایس پی کینٹ کی فیکٹری ایریا بچے کو

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد