سمندر میں ڈوبنے والے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے 3 طلبہ کیلئے تعزیتی اجلاس کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
— جنگ فوٹو
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی وائس چانسلر پروفیسر نازلی حسین نے کہا کہ فائنل ایئر کے تین طلبہ کے یوں چلے جانے کا دکھ زندگی کا مشکل ترین وقت ہے، اسے زندگی بھر بھلایا نہیں جا سکے گا۔
پروفیسر نازلی حسین نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے معین آڈیٹوریم میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں اپنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں جبکہ شرکا کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ اساتذہ بھی والدین کی طرح ہی ہوتے ہیں وہ طلبہ کو ان کے بھلے کے لیے ہی روکتے ٹوکتے ہیں۔
پروفیسر نازلی حسین نے طلبہ کو ہدایت کی کہ وہ شہید طلبہ کے والدین کا غم بانٹنے کے ساتھ مستقبل میں بھی رابطہ میل جول اور خاص طور پر تہواروں پر ضرور ان کے گھر جا کر ملیں تاکہ ان کا دکھ کچھ کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ شہید طلبہ کو ایم بی بی ایس کی ڈگری دینے پر یونیورسٹی سنڈیکیٹ میں غور کیا جائے گا۔
رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق نے کہا کہ کسی بھی بچے کے جانے کا دکھ ناقابل تلافی ہوتا ہے ان تینوں طلبا کے والدین سے غم بانٹنے کے لیے ہم سب کو کوشش کرنا چاہیے خاص طور پر ان کے بیچ کے طلبہ و طالبات کو ان کے والدین سے تعلق اس طرح رکھنا چاہیے کہ ان کا دکھ کم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعے پر دنیا بھر میں موجود ڈاؤ فیملی میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے سوشل میڈیا سمیت تمام ذرائع سے تعزیتی پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔
پروفیسر صبا سہیل نے کہا کہ ڈاؤ میڈیکل کالج کے 3 طلبہ کی شہادت سے بڑا سانحہ شاید ڈاؤ کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہو ان تین خاندانوں پر تو قیامت ٹوٹ پڑی میں خود بھی ایک ماں ہوں سمجھ سکتی ہوں کہ ایک ماں کے لیے کتنا بڑا صدمہ ہے جس سے ان بچوں کی مائیں گزر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے والدین نہیں ہوتے وہ یتیم و یسیر کہلاتے ہیں لیکن جن ماں باپ کے بچے چلے جائیں ان کے دکھ کے اظہار کے لیے کوئی لفظ بھی نہیں۔
پروفیسر صبا سہیل نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان غم کی اس گھڑی میں فی الحال تنہائی چاہتے ہیں لہذا انہیں یہاں مدعو نہیں کیا گیا۔
انہوں نے فائنل ایئر ڈی 26 کے طلبہ سے اپیل کی کہ اپنی الوداعی تقریبات سادگی سے مکمل کریں۔
پروفیسر شمائلہ خالد نے شہید طلبہ کے بارے میں کہا کہ تینوں بہت فعال اور ذمہ دار تھے۔
سابق ایڈمن زہرہ سیمی نے کہا کہ ان بچوں کا داخلہ کورونا کے دور میں ہوا تھا اس لیے ایڈمن کا طلبہ سے بہت قریبی رابطہ رہتا تھا، یہ تینوں بچے ہی ان میں سب سے نمایاں تھے اور اہم نصابی سرگرمیوں میں بہت آگے ہوتے تھے ۔
تعزیتی اجلاس کے آخر میں فاتحہ خوانی کی گئی اور شہداء کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی اور بعد نماز جمعہ ڈاؤ میڈیکل کالج کی جامع مسجد میں مردوں کےلیے اور گرلز کامن روم میں خواتین کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے والدین نے کہا کہ انہوں نے کا دکھ کے لیے
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل