فیملی ولاگنگ میں ماں بہنوں کو بلاوجہ دکھانا غلط ہے؛ شکیل صدیقی کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
معروف کامیڈین اور اداکار شکیل صدیقی نے پاکستان میں فیملی ولاگنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے نوجوان نسل کےلیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’تفریح کے نام پر ماؤں اور بہنوں کو بلاوجہ دکھایا جا رہا ہے، جو کہ درست عمل نہیں ہے۔‘‘
شکیل صدیقی نے واضح کیا کہ اگر ماں کو کچن میں کھانا بناتے دکھایا جائے تو یہ قابل قبول ہے، لیکن موجودہ ولاگنگ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حدود سے تجاوز ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’’میرا 12 سالہ بیٹا بھی فیملی ولاگز دیکھتا ہے، جس پر مجھے شدید فکر ہے۔ جب میں اسے یہ ولاگز دیکھتے ہوئے دیکھتا ہوں تو فون لے لیتا ہوں، کیونکہ یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔‘‘
اداکار نے پاکستانی فلم انڈسٹری کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر کراچی کو ابتدا ہی سے مرکز بنایا جاتا تو شاید انڈسٹری زوال کا شکار نہ ہوتی۔‘‘ انہوں نے ناقص ڈبنگ اور غیر ذمے دارانہ پروڈکشن کے فیصلوں کو فلمی صنعت کی تباہی کی بڑی وجہ قرار دیا۔
شکیل صدیقی نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ پاکستان میں کامیڈینز کی عزت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے اس ملک میں بے پناہ محبت ملی، جس کی بدولت بیرون ملک بھی مواقع ملے۔ اگر یہاں عزت نہ ملتی تو دنیا بھر میں پرفارم کرنے کے لیے ٹکٹ اور ویزا کون دیتا؟‘‘
انہوں نے اپنے کیریئر کے چند فیصلوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ٹی وی پر زیادہ کام مواقع کی کمی اور معیاری کردار نہ ملنے کی وجہ سے کیا۔‘‘
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: شکیل صدیقی انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔