سعودی عرب کو کوئی مشکل پیش آئی تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے سے دونوں ممالک کے عوام کی توقعات وابستہ ہیں اور وہ پوری ہوں گی، سعودی عرب کو کوئی مشکل پیش آئی تو پاکستان منہ توڑ جواب دے گا۔
ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جو دو مسلمان ملکوں کے درمیان طے پایا ہے۔اس طرح کا معاہدہ اس سے پہلے یا تو نیٹو ممالک کے مابین ہے یا پھر شاید امریکہ اور جاپان کے درمیان ہے۔ مسلمان ملکوں کے درمیان ہونے والا یہ پہلا معاہدہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دو مسلمان ممالک جن سے میں ایک عسکری اور ایٹمی قوت ہے جبکہ دوسرا معاشی قوت، ان کا یہ معاہدہ کرنا یقینا دونوں کیلئے مفید ہے۔ان دونوں ممالک نے اس جسم کی مانند یہ معاہدہ کیا ہے کہ اگر اس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو وہ دوسرے حصے میں بھی سمجھی جائے گی۔
پاکستان ٹیم کو خود پر یقین رکھنا چاہیے ، ابتدائی وکٹیں لینا ضروری ہے تاکہ بھارت کو دباو میں رکھا جا سکے،وسیم اکرم
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اگر خدانخواستہ سعودی عرب کو کوئی مشکل پیش آئی تو پاکستان اسی طرح جواب دے گا جیسے اپنی حفاظت کرتا ہے، جیسے حال ہی میں معرکہ حق میں اپنا دفاع کیا اور منہ توڑ جواب دیا۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ اسی طرح اگر پاکستان پر کوئی برا وقت آتا ہے تو سعودی عرب بھی اسی طرح ہمارا ساتھ دے گا۔ دفاعی میدان میں ہمارے پاس جدید ترین ٹیکنالوجی اور دفاعی ساز و سامان بشمول مقامی طور پر تیارکردہ میزائل ٹیکنالوجی اور جے ایف 17 تھنڈر طیارے دستیاب ہیں جنہیں جدت کی مزید بلندیوں پر پہنچا سکتے ہیں۔
پاک سعودی معاہدہ، اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ ویڈیو ڈاکٹر نوید الٰہی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ کے درمیان
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے