Islam Times:
2026-07-24@07:23:56 GMT

شہیدِ مقاومت کی پہلی برسی اور امت کیلئے بیداری کا پیغام

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

شہیدِ مقاومت کی پہلی برسی اور امت کیلئے بیداری کا پیغام

اسلام ٹائمز: سید حسن نصراللہ نے اپنی زندگی اور اپنی شہادت سے ہمیں سکھایا کہ حقیقی قربانی میں اختلافات نہیں اتحاد ہوتا ہے، خوف نہیں، حوصلہ ہوتا ہے اور مایوسی نہیں عزم ہوتا ہے۔ آج امت کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اس قربانی کو خراجِ عقیدت صرف الفاظ سے پیش نہ کرے، بلکہ عمل سے ثابت کرے، کیونکہ اگر ہم آج اس راستے پر متحد ہو جائیں تو بلاشبہ ہم ظلم کی جڑوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ سید حسن نصراللہ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ مسلمانو اب جاگو، اب اٹھو، اب متحد ہو کر ظلم کے سامنے ڈٹ جاؤ، کیونکہ بلاشبہ، ظلم بڑھتا ہے تو مٹتا بھی ہے، لیکن مٹانے کے لیے ہمیں قدم آگے بڑھانا ہوگا۔ تحریر: محمد حسن جمالی

آج امت مسلمہ ایک سنجیدہ موڑ پر کھڑی ہے۔ سید حسن نصراللہ کی شہادت کی پہلی برسی قریب ہے اور یہ دن صرف ایک یادگار نہیں، بلکہ ایک بیدار کرنے والی صدا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے، جس میں تاریخ کے صفحات سرخ ہو جاتے ہیں اور ہر مسلمان کے دل میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ہم اس قربانی کو صرف یاد رکھیں گے یا اس کی روشنی میں اپنی بقاء کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔؟ شہید کی پہلی برسی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قربانی صرف ایک لمحے کا جذبہ نہیں، بلکہ ایک مسلسل عزم ہے، جو نسلوں کو جیتی جاگتی تاریخ عطا کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں چیلنج دیتا ہے کہ ہم اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جائیں، کیونکہ سید حسن نصراللہ کی راہ یقیناً امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

سید حسن نصراللہ نے اپنی پوری زندگی اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی سب سے بڑی آرزو مقامِ شہادت کا حصول تھا، جو بالآخر پوری ہوگئی۔ "عاشَ سعیداً وماتَ سعیداً"ان کی شہادت حزب اللہ کے لیے مزید تقویت کا باعث بنے گی، ان کے پیروکاروں میں مقاومت کا عزم پختہ ہوگا، ان میں اصولوں پر قائم رہنے کی ہمت بڑھے گی اور وہ فلسطین کی آزادی و دفاع کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوطی کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہیں گے۔ شہید کے پاکیزہ لہو کی قربانی دنیا کی مظلوم قوموں کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ مزاحمتی تحریک کا سفر مشکلات و صعوبتوں سے بھرا ہوتا ہے اور جتنی زیادہ فداکاری ہوگی، منزل مقصود اتنی ہی جلد حاصل ہوگی۔

سید حسن نصراللہ کی شہادت کا ایک بڑا پیغام یہ ہے کہ استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد ہی مسلمانوں کی عزت و سربلندی کا راز ہے۔ ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرنا ہر غیرت مند مسلمان کا فریضہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے غزہ کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کر دیا کہ شیعہ مراجع عظام کا اہلسنت کو اپنا بھائی کہنا صداقت پر مبنی ہے۔ شیعوں کے لیے اہلسنت کی جان، مال اور عزت اتنی ہی عزیز ہے، جتنی کہ شیعوں کی عزیز ہے۔ یہ قربانی مسلمانوں کو اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتی ہے اور یہ سبق دیتی ہے کہ شیعہ و سنی کی چار دیواری پھلانگ کر ایک دوسرے کا دست و بازو بننا اور اپنے مشترکہ دشمن امریکہ و اسرائیل کے خلاف متحد ہونا ضروری ہے۔

بدقسمتی سے اہلسنت کی اکثریت تکفیری پروپیگنڈے کے زیر اثر غزہ کے مظلوم عوام سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے۔ تکفیریوں نے سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ فکری بیج بو دیا ہے کہ اگر اہلسنت غزہ کی حمایت کریں گے تو وہ ایران اور حزب اللہ کی طاقت کو بڑھائیں گے اور اس سے سنیوں کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان جیسے ممالک میں اہلِ سنت امریکہ و اسرائیل کے دباؤ کے تحت غزہ کے مسئلے سے لاتعلق ہیں۔ مولویوں کا اثر و رسوخ، مالی امداد کے سیاسی تعلقات اور عوام کی عام بے خبری اس خاموشی کو بڑھا رہے ہیں۔ سید حسن نصراللہ کی موجودگی لبنان میں ایک طاقتور علامت تھی۔ ان کی قیادت میں حزب اللہ نے اسرائیل کے مقابلے میں کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی شہادت ایک امتحان ہے۔ ان کی شہادت سے اسرائیل کو شاید جشن منانے کا موقع ملا ہو، لیکن حقیقت میں اس نے اپنی ہی قبر کھودی ہے۔ حزب اللہ مزید طاقتور ہو کر سامنے آرہی ہے۔

امت کو اپنی حفاظت کے لیے بیدار ہونا ہوگا۔ ظلم کا مقابلہ نہ کرنا بھی ظلم ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی سفاکیت اور بے رحمی تاریخ میں بدترین مثال ہے۔ نہتے عوام پر بمباری، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا انسانی ضمیر کو جھنجوڑ دینے والا عمل ہے۔ اس کے باوجود بہت سے اہلِ سنت خاموش ہیں اور بعض مذہبی رہنماء ان مظالم کی مذمت سے گریزاں ہیں۔ یہ خاموشی بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ  سوال ہر مسلمان کے ضمیر پر گونج رہا ہے کہ کیا امت اب بھی خاموش رہے گی یا اس شہیدِ مقاومت کے لہو سے بیدار ہوگی۔؟ سید حسن نصراللہ کی شہادت کی پہلی برسی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی جرم ہے اور وحدت ہی مسلمانوں کی بقاء کا راز ہے۔ وقت آگیا ہے کہ امت اپنے اختلافات بھلا کر ایک ہو جائے اور مزاحمت کے اس سفر کو جاری رکھے، کیونکہ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی پہلی برسی کا موقع امت مسلمہ کو ایک بار پھر یاد دلایا جا رہا ہے کہ سید حسن نصراللہ صرف ایک انسان نہیں تھے، بلکہ وہ ایک تحریک، ایک عزم اور ایک روشنی تھے، جو امت کے ہر گوشے کو جگانے کی قوت رکھتے تھے۔ ان کی قربانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ پیغام ہے کہ آزادی اور حق کی راہ میں جان کا نذرانہ دینا انسانی عظمت کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ آج جب ہم ان کی پہلی برسی کے قریب ہیں تو یہ صرف ایک یادگار دن نہیں بلکہ ایک بیداری کا دن ہونا چاہیئے۔ اس سنہری موقع ہر ہمیں سوچنا چاہیئے کہ ہم ان کی راہ پر چلتے ہوئے ظلم کے خلاف متحد ہو جائیں گے یا خاموشی اختیار کر کے اپنی نسلوں کے حق میں ایک بڑا فکری نقصان قبول کریں گے۔

سید حسن نصراللہ نے اپنی زندگی اور اپنی شہادت سے ہمیں سکھایا کہ حقیقی قربانی میں اختلافات نہیں اتحاد ہوتا ہے، خوف نہیں، حوصلہ ہوتا ہے اور مایوسی نہیں عزم ہوتا ہے۔ آج امت کے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اس قربانی کو خراجِ عقیدت صرف الفاظ سے پیش نہ کرے، بلکہ عمل سے ثابت کرے، کیونکہ اگر ہم آج اس راستے پر متحد ہو جائیں تو بلاشبہ ہم ظلم کی جڑوں کو ختم کرسکتے ہیں۔ سید حسن نصراللہ کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ مسلمانو اب جاگو، اب اٹھو، اب متحد ہو کر ظلم کے سامنے ڈٹ جاؤ، کیونکہ بلاشبہ، ظلم بڑھتا ہے تو مٹتا بھی ہے، لیکن مٹانے کے لیے ہمیں قدم آگے بڑھانا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید حسن نصراللہ نے سید حسن نصراللہ کی اللہ کی شہادت کی پہلی برسی حزب اللہ ہو جائیں بلکہ ایک ہوتا ہے نے اپنی اللہ نے کے خلاف صرف ایک متحد ہو کے لیے ظلم کے ہے اور امت کے

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی