data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قدرت نے دنیا میں کئی ایسے جاندار پیدا کیے ہیں جو اپنی بقا کے لیے حیرت انگیز طریقے اختیار کرتے ہیں۔

افریقا میں پایا جانے والا ایک مینڈک اپنی نوعیت کا بالکل منفرد ہے۔ اسے عام طور پر  وولورین مینڈک کہا جاتا ہے ۔ یہ نام مشہور فلمی کردار  ایکس مین کے وولورین سے لیا گیا ہے، جو اپنی ہڈیوں سے نکلنے والے پنجوں سے دشمن پر حملہ کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مینڈک کی صلاحیت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔

سائنسی طور پر Trichobatrachus robustus کہلانے والا یہ مینڈک وسطی افریقا کے گھنے بارانی جنگلات، خصوصاً کیمرون، کانگو، نائیجیریا اور ایکویٹوریل گینی کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

اس مینڈک کی خاصیت یہ ہے کہ یہ خطرہ محسوس کرتے ہی اپنی پچھلی ٹانگوں کی اندرونی ہڈیوں کو زور لگا کر توڑ دیتا ہے۔ ہڈی کے نوکیلے ٹکڑے جلد کو پھاڑ کر باہر نکل آتے ہیں اور پنجوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو دفاعی ہتھیار کا کام دیتے ہیں۔

یہ حیران کن عمل چند سیکنڈوں میں مکمل ہوتا ہے اور مینڈک ان ہڈیوں سے دشمن پر حملہ کر کے خود کو محفوظ بناتا ہے۔

ماہرین حیوانات کے مطابق یہ فطرت کا ایک نایاب دفاعی طریقہ ہے جو جان بوجھ کر اپنی ہڈیوں کو توڑنے پر مبنی ہے ۔ ایسا عمل جو عام طور پر کسی جاندار کے لیے تباہ کن ہوتا ہے، مگر اس مینڈک کے لیے بقا کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ  ہڈی کے پنجے مستقل نہیں ہوتے۔ جب خطرہ ختم ہو جاتا ہے تو مینڈک کے جسم کا قدرتی نظام خود بخود ان ہڈیوں کو واپس اندر کھینچ لیتا ہے۔ زخم آہستہ آہستہ بھر جاتے ہیں اور مینڈک دوبارہ اپنی معمول کی حالت میں آ جاتا ہے۔

سائنسی مطالعات کے مطابق اس عمل میں مینڈک کے جسم میں موجود عضلات اور جلد کا لچکدار ڈھانچہ اہم کردار ادا کرتا ہے، جو اسے بغیر کسی مستقل نقصان کے بار بار یہ عمل کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

یہ مینڈک اپنی ظاہری ساخت میں بھی عام مینڈکوں سے مختلف ہے۔ نر مینڈک کے جسم پر باریک بال نما ساختیں ہوتی ہیں جو اسے  بالوں والا مینڈک بھی بناتی ہیں۔ ان بالوں کا ایک حیاتیاتی مقصد بھی ہے ۔ یہ سانس لینے کے دوران آکسیجن کے تبادلے میں مدد دیتے ہیں، خاص طور پر جب نر مینڈک انڈوں کی حفاظت کرتے ہوئے پانی میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق وولورین مینڈک فطرت کے ان چند نایاب جانداروں میں سے ایک ہے جو اپنی ہڈیوں کو دفاعی آلہ بنا سکتا ہے۔ یہ مظاہرہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ قدرت نے جانداروں کو اپنی بقا کے لیے کس قدر حیرت انگیز صلاحیتوں سے نوازا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مینڈک کے جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟