‘شہدا کو کبھی نہیں بھولیں گے’، وزیراعظم شہباز شریف کا معرکہ حق کے شہدا کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے معرکہ حق میں شہید ہونے والے شہریوں اور فوج کے جوانوں کے لواحقین کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
انہوں نے پاک فضائیہ کے 5 اور پاک آرمی کے 6 جوانوں کی شہادت پر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان نے قوم سے کیا ہوا عہد پورا کیا، مجھ سمیت پوری قوم کو شہدا اور ان کے اہل خانہ پر فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر اعظم کا ہرسال 10 مئی کو یوم معرکہ حق منانے، شہدا و زخمیوں کے لیے پیکج کا اعلان
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کا بھرپور دفاع کیا اور ملکی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دی، قوم بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، ہم شہدا کو نہ کبھی بھولے ہیں نہ بھولیں گے، ان کے لواحقین کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
اس سے قبل وزیر اعظم نے آج شہدا کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں شہید ہونے والے پاکستانی شہریوں کے ورثا کو رینک کے حساب سے 1.
پاک افواج کے شہدا کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک ان کی مکمل تنخواہ بمعہ الاؤنسز جاری رہیں گی۔
مزید پڑھیں: پاک فوج نے بھارت کے خلاف شاندار آپریشن، حملوں کی تفصیلات جاری کردیں
پاک افواج کے شہدا کے بچوں کو گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی اور ہر شہید کی ایک بیٹی کی شادی کے لیے 10 لاکھ روپے کی میرج گرانٹ دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت کے خلاف جنگ میں مقبول ہونے والے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کون ہیں؟
پاک افواج کے زخمی ہونے والوں کو 20 لاکھ روپے سے 50 لاکھ روپے فی کس دیے جائیں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ بھارتی حملے میں متاثر ہونے والے گھروں، شہید مساجد کی تعمیر وفاقی حکومت کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک فوج شہباز شریف شہدا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک فوج شہباز شریف ہونے والے لاکھ روپے معرکہ حق
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین