پاک بھارت کشیدگی: عالمی سطح پر چینی جنگی ہتھیاروں کی مانگ میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے دوران ہونے والی حالیہ کشیدگی کا اختتام پاکستان کی فتح پر ہوا ہے، جس کے بعد چین کے جنگی ہتھیاروں کی ساکھ میں بھی اضافہ ہوگیا، کیوں کہ پاک فضائیہ نے جنگ کے دوران چینی ساختہ J10C جنگی جہاز کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کے 6 جنگی جہاز تباہ کردیے۔
پاک فضائیہ کی جانب سے تباہ کیے گئے بھارتی طیاروں میں 3 رافیل جنگی جہاز بھی شامل ہیں، جو فرانسیسی کمپنی نے تیار کیے تھے، اور اس واقعہ کے بعد کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں پاکستان کے ہاتھوں رافیل گرنے کا بھارتی اعتراف، فرانسیسی کمپنی کے شیئرز مزید گرگئے
غیر ملکی میڈیا رپورٹسں میں بتایا گیا ہے کہ رافیل لڑاکا طیارے بنانے والی کمپنی ڈسالٹ ایوی ایشن کے حصص کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، کمپنی کے اسٹاک میں مزید 4.
واضح رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان کے مختلف شہروں پر میزائلوں سے حملہ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن ملک کے 5 جنگی جہاز تباہ کردیے تھے۔
بھارت کی جانب سے اس کے بعد بھی کارروائی جاری رکھی گئی، اور پاکستان پر ڈرونز کے ذریعے حملے کرنے شروع کردیے۔
10 مئی کی رات کو بھارت نے پاکستان کے 3 ایئربیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے ناکام بنانے کے بعد پاکستان نے بھارت پر جوابی حملہ کردیا۔
پاک فوج نے اسی رات فجر کی نماز کے بعد ’بنیان مرصوص‘ کے نام سے آپریشن شروع کرتے ہوئے بھارت میں گھس کر کارروائیاں کرتے ہوئے دشمن کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایک اور جنگی جہاز بھی تباہ کردیا گیا۔
پاک فوج کی اس کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میدان میں آگئے اور دونوں ملکوں کے درمیان سیز فائر کرا دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ پاکستان نے سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، یہ بھارت کی خواہش پر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل مار گرایا، انڈین ایئر مارشل کا ڈھکا چھپا اعتراف
اس وقت پاکستان بھر میں فتح کا جشن منایا جارہا ہے اور عوام پاک فوج کے حق میں ریلیاں نکال کر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کررہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ جنگی جہاز چینی جنگی ہتھیار رافیل طیارہ مانگ میں اضافہ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ جنگی جہاز رافیل طیارہ مانگ میں اضافہ وی نیوز جنگی جہاز کرتے ہوئے کے بعد
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار