اوگرا نے ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اوگرا نے ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی کردی، نوٹیفکیشن جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 13 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے مئی کے لیے درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں کمی کردی۔
اوگرا نے مئی کے لیے ایل این جی کی قیمتوں کے تعین کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق سوئی ناردرن کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 1.
اسی طرح اوگرا نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے لیے ایل این جی کی قیمت میں 1.71 ڈالر فی ایم بی ٹی یو سستی کی جس کے بعد اس کی نئی قیمت 10.87 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔واضح ہے کہ اپریل میں سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کے لیے ایل این جی کی قیمت بالترتیب 13.47 اور 12.59 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی شکایت پر کارروائی کا حکم وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی شکایت پر کارروائی کا حکم سی ڈی اے ہسپتال میں بھرتیاں مکمل میرٹ پر کیں، جسکی وجہ سے مریضوں کے علاج و معالجہ اور دیکھ بھال کے معیار میں... آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو دھول چٹا دی وزیر اعظم کا ٹیکس نہ دینے والے افراد اور شعبوں کیخلاف بھرپور کارروائی کا حکم پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اشتعال انگیز بیانات کو مسترد کردیا،بیانات عالمی قانون کی صریحا بے توقیری قرار معرکہ حق،بلوچستان میں دہشتگردی میں بھارتی سرپرستی کے شواہد منظر عام پر آگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایل این جی کی قیمتوں اوگرا نے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔