پاک بھارت لڑائی سے چینی ہتھیاروں کی ساکھ بن گئی، بلوم برگ نے بھی اعتراف کر لیا، پوری دنیا میں پاک افواج کی دھاک بیٹھ گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی جریدے 'بلوم برگ، نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین کے ہتھیاروں کو نئی عالمی پذیرائی مل گئی، پاک بھارت کشیدگی نے مغربی اسلحے کی برتری کو چیلنج کر دیا۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ پاک بھارت تنازع نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں سیکیورٹی کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر اسٹریٹجک ہتھیاروں کی سوچ میں بھی واضح تبدیلی پیدا کی ہے۔ چین کے تیار کردہ لڑاکا طیارے اور دفاعی نظام، جنہیں ماضی میں مغربی ہتھیاروں کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا تھا، اب مؤثر ثابت ہو کر دنیا کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
نوشکی میں بے گناہ 4 اینکر ڈرائیور قتل ،وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی شدید مذمت
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی جانب سے استعمال کیے گئے چینی جنگی طیاروں اور میزائلوں نے نہ صرف بھارتی دفاعی نظام کو چیلنج کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ بیجنگ کی عسکری برآمدات اب عالمی میدان میں بھرپور مقابلہ کر سکتی ہیں۔مغربی ممالک میں جہاں چینی ہتھیاروں کو طویل عرصے سے کمتر سمجھا جاتا رہا، اب یہ سوچ بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی نے چین کے ہتھیاروں کی مؤثریت کو نئے زاویے سے دنیا کے سامنے رکھا ہے جس سے خاص طور پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔اس پیش رفت کو چین کی دفاعی صنعت کے لیے ایک بڑی سفارتی اور تجارتی فتح سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے بعد ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں چینی اسلحہ مزید فروغ پا سکتا ہے۔
مودی پاکستان سے نفرت کرتا ہے وہ انتقام لے گا، قوم نے متحد اور الرٹ رہنا ہے:عمران خان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔