Juraat:
2026-07-24@11:46:23 GMT

حالیہ کشیدگی میں پاکستان کو بنگلہ دیشی حمایت

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

حالیہ کشیدگی میں پاکستان کو بنگلہ دیشی حمایت

ریاض احمدچودھری

پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات جوحسینہ واجد دور میں ختم ہو چکے تھے دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مشیر اور سابق ریٹائرڈ فوجی جنرل فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ بھارت اگر پاکستان پر حملہ کرے تو بنگلہ دیش کو فوری طور پربھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں پر قبضہ کرلینا چاہیے۔سابق بنگالی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ بھارت کی سات ہی شمال مشرقی ریاستیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور اس ضمن میں بنگلہ دیش کو ابھی سے ہی چین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ پاکـبھارت کشیدگی اور ممکنہ طور پر بھارت کے پاکستان پر حملے کے تناظر میں بنگلہ دیش کو چین سے بات چیت کرکے فوجی مشقیں شروع کرلینی چاہیے۔خیال رہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ارونا چل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، مزورام، تری پورا اور ناگالینڈ کی سرحدیں بنگلہ دیش کے ساتھ 1600 کلو میٹر رقبے تک لگتی ہیں۔بھارت کی ان ہی ریاستوں کی سرحدیں چین، میانمار، نیپال اور بھوٹان سے بھی لگتی ہیں، مذکورہ علاقے کی متعدد ریاستوں کے کئی علاقوں پر نیپال، بھوٹان، چین اور میانمار اپنا دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی چار عشروں پر مشتمل سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ نوے فی صد مسلم اکثریت اور عوامی سطح پر ٹھوس اسلامی روایات رکھنے والے اس ملک کا قیام تو سیکولر عنوان سے عمل میں آیا تھا لیکن اس کا سیکولر تعارف بنگلہ دیش کے عوام کو ہضم نہیں ہوا۔ چنانچہ خلافت اسلامیہ کے قیام کے علمبردار حافظ جی حضور نے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلفاء میں سے تھے جب خلافت کے عنوان سے بنگلہ دیش کے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو اسلامی نظام اور خلافت کے لیے بنگلہ دیشی عوام کے جذبات دیدنی تھے اور بہت سے سیاسی ذرائع اب تک یہ بات دہرا رہے ہیں کہ اگر مبینہ طور پر دھاندلی نہ ہوتی تو حافظ جی حضور صدارتی الیکشن کی دوڑ میں دوسرے امیدواروں سے آگے تھے۔
جماعت اسلامی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر گیارہ بارہ سال تک جمہوریت کے لئے زبردست جدوجہد کی تھی۔ اب وقت تھا کہ وہ عوام کے دوش بدش کھڑی ہو جاتی اور یحییٰ خانی ٹولے پر واضح کرتی کہ تم غلط راستہ اختیار کر رہے ہو، جتنی جلدی ممکن ہو اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کر دو، لیکن افسوس جب ملٹری ایکشن شروع ہوا تو جماعت کے رہنما مشرقی پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے مارشل لائ ایڈمنسٹریٹر جنرل ٹکا خان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر امن کمیٹیاں بنانے پر تیار ہو گئے۔پھر 1988 میں بنگلہ دیش کی منتخب پارلیمنٹ نے اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب بھی دستوری طور پر قرار دے دیا تھا جو بنگلہ دیش کے عوام کے دینی جذبات کا مظہر تھا، لیکن عوامی لیگ نے ملک کے سیکولر تشخص کے نام پر اپنے دورِ حکومت میں اسے ”ریورس گیئر” لگا دیا اور اب بھی وہ اسی سیکولر تشخص کے تحفظ کے لیے ہر طرف ہاتھ پاؤں ما رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد جہاں ایک طرف سابق وزرا کی پکڑدھکڑ جاری ہوئی وہیں دوسری طرف برسوں سے جیلوں میں قید اپوزیشن رہنماؤں کی رہائی کا عمل شروع ہوگیا۔ ڈھاکہ کی ایک عدالت نے کوٹہ اصلاحات کی تحریک کے دوران گرفتار بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن امیر خسرو محمود چوہدری اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور سمیت بی این پی اور جماعت اسلامی کے ایک ہزار سے زائد رہنماؤں اور کارکنوں کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دے دیا۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن مرحوم میر قاسم علی کے لاپتہ بیٹے بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان بھی 8 سال بعد گھر واپس آگئے۔ ڈیلی بنگلہ دیش کے مطابق ان کے اہل خانہ نے فیس بک پر ارمان کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا الحمدللہ ارمان اب آزاد ہے۔10 اگست 2016 کو رات نامعلوم افراد بیرسٹر میر احمد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے اور ان کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سابق امیر غلام اعظم مرحوم کے لاپتہ بیٹے سابق بریگیڈیئر جنرل عبداللہ الامان اعظمی بھی گھر واپس آگئے۔عوامی لیگ کی حکومت آنے کے بعد عبداللہ اعظمی کو فوج سے نکال دیا گیا تھا۔ جماعت اسلامی نے بارہا ان کی رہائی کے مطالبات کیے لیکن حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی گرفتاری سے انکار کیا تھا۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد سکیورٹی فورسز نے تقریباً 600 سے زائد افراد کو اغوا اور غائب کیا جن میں سے متعدد لوگوں کا تعلق حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کالعدم جماعت اسلامی سے تھا۔
جماعت اسلامی نے ڈھاکہ میں اپنا پارٹی دفتر ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بند رہنے کے بعد کھول دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ جماعت کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترا شبر کا ہیڈ آفس بھی دوبارہ کھول دیا گیا۔ موگ بازار محلے میں پارٹی کا ہیڈ آفس 2011 میں زبردستی بند کر دیا گیا تھا، اور عدالتی حکم کے باوجود اسے دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔بنگلہ دیش جب دستوری طور پر مشرقی پاکستان تھا اور پاکستان کا آئینی حصہ تھا یہ تب کی بات ہے کہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے آزادی کے نام پر تحریک چلائی گئی تھی جو صرف سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی تھی، اس عسکری اور سیاسی تحریک کو بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور اس کی حمایت میں بھارت نے وسیع پیمانے پر فوجی مداخلت کی تھی۔ اس وقت مشرقی پاکستان کی جماعت اسلامی نے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر پاکستان کی حکومت اور فوج کا ساتھ دیا تھا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کے عسکری ونگ ”مکتی باھنی” کا ”البدر” اور ”الشمس” کے نام سے عسکری ونگ بنا کر مقابلہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے مشرقی پاکستان میں بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے بھارت کی کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

اسلامی اقدار اور جدید دور

آج کی دنیا اپنی رفتار، اپنی چمک اور اپنی پیچیدگی کے باعث پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہو چکی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمٹائے ہیں، معلومات کی فراوانی پیدا کی ہے، اور زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں فراہم کی ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ انسان کے اندرونی سکون، اخلاقی توازن، خاندانی استحکام اور روحانی وابستگی میں ایک واضح کمی بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے صرف مادی ترقی پر نہیں کر سکتی۔ اس خلا کو وہ اقدار پر کرتی ہیں جو انسان کو اس کی اصل پہچان، اس کے مقصدِ حیات اور اس کی اخلاقی ذمہ داریوں سے جوڑتی ہیں، اور اسلامی اقدار اسی ضرورت کا جواب ہیں۔
اسلام محض چند عبادات یا رسومات کا نام نہیں، بلکہ ایک جامع نظامِ زندگی ہے۔ یہ انسان کے عقیدے کو بھی درست کرتا ہے، اس کے اخلاق کو بھی سنوارتا ہے، اس کے معاملات کو بھی راہ دکھاتا ہے، اور اس کے اجتماعی رویوں کو بھی متوازن بناتا ہے۔ سچائی، امانت، عدل، حیا، رحم، خدمت، صبر، شکر اور ذمہ داری جیسے اصول اسلام کی روح ہیں۔ یہ اصول کسی ایک زمانے، کسی ایک تہذیب یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں، بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جدید دور میں، جب مفاد پرستی، خود غرضی، دکھاوا، بے صبری اور اخلاقی بے راہ روی عام ہوتی جا رہی ہے، اسلامی اقدار پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں۔
آج انسان بظاہر زیادہ باخبر ہے، مگر اندر سے زیادہ بے چین بھی ہے۔ اس کے پاس ذرائع ابلاغ کی بے پناہ طاقت ہے، مگر سچائی کی کمی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے لاتعداد وسیلے ہیں، مگر دلوں میں دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس کے پاس سہولتیں ہیں، مگر اطمینان کم ہے۔ اس کے پاس آزادی کے نعرے ہیں، مگر ذمہ داری کا احساس کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام انسان کو توازن دیتا ہے۔ وہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ آزادی ہو مگر اخلاق کے ساتھ، ترقی ہو مگر انصاف کے ساتھ، علم ہو مگر حکمت کے ساتھ، اور طاقت ہو مگر جواب دہی کے ساتھ۔
اسلامی اقدار کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ انسان کو زمانے سے الگ نہیں کرتیں بلکہ زمانے کے اندر رہتے ہوئے بہتر انسان بننے کی تربیت دیتی ہیں۔ اسلام عقل کے استعمال کو سراہتا ہے، علم کے حصول کو عبادت کے درجے تک پہنچاتا ہے، تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس لحاظ سے اسلام جدیدیت کا مخالف نہیں، بلکہ ایسی جدیدیت کا حامی ہے جو انسان کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اگر جدید دور سے مراد سائنس، ٹیکنالوجی، مواصلات، تحقیق اور سہولتوں میں ترقی ہے تو اسلام ان سب سے متصادم نہیں۔ البتہ اگر جدید دور سے مراد اخلاقی نسبیت، خاندانی نظام کی تباہی، مادہ پرستی اور بے مقصد آزادی ہے تو اسلام اس پر خاموش نہیں رہ سکتا۔
مسلمان معاشروں کا اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اسلام آج کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دے سکتا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی میں مکمل طور پر نافذ نہیں کیا۔ ہم نماز کو تو اختیار کرتے ہیں مگر معاملات میں سچائی کمزور رہتی ہے۔ ہم مذہبی شناخت کو تو اہم سمجھتے ہیں مگر سماجی انصاف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم دین کی بات تو کرتے ہیں مگر اس کی اخلاقی روح کو اپنی زندگیوں میں جگہ نہیں دیتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہماری ظاہری وابستگی تو باقی رہتی ہے، لیکن اجتماعی کردار متاثر ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں اصل ضرورت اسی کردار کی ہے جو دیانت، انصاف، نرمی، امانت اور انسان دوستی پر قائم ہو۔
نوجوان نسل اس بحث کا سب سے اہم حصہ ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے جہاں ہر طرف مسابقت ہے، دبا ہے، اشتہارات ہیں، فیشن ہے، مواد کی بھرمار ہے، اور شناخت کے بحران ہیں۔ اس صورتحال میں اگر اسے کوئی مضبوط اخلاقی بنیاد نہ دی جائے تو وہ منتشر ہو سکتا ہے۔ اسلامی اقدار نوجوان کو جڑ بھی دیتی ہیں اور سمت بھی۔ وہ اسے بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف کیریئر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ وہ اسے یہ شعور دیتی ہیں کہ عزت صرف شہرت میں نہیں، کردار میں بھی ہوتی ہے؛ اور ترقی صرف تنخواہ یا معیارِ زندگی میں نہیں، بلکہ اخلاقی بلندی میں بھی ہوتی ہے۔
خاندانی نظام کے لیے بھی اسلامی اقدار ناگزیر ہیں۔ جدید دنیا میں خاندان تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ، میاں بیوی کے درمیان عدم برداشت، بزرگوں کی بے توقیری، اور رشتوں میں مفاد پرستی ایک عام مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ اسلام خاندان کو محض ایک سماجی اکائی نہیں سمجھتا بلکہ اسے تربیت، محبت، قربانی اور سکون کا مرکز قرار دیتا ہے۔ اگر گھر کے اندر اسلامی اخلاق زندہ ہوں تو معاشرہ بھی سنورتا ہے۔ کیونکہ معاشرہ گھروں ہی سے بنتا ہے، اور گھروں کی اصلاح کے بغیر کسی بڑی اجتماعی تبدیلی کا خواب ادھورا رہتا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی اسلامی اقدار کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ جھوٹی خبروں، بے بنیاد پروپیگنڈے، کردار کشی، سنسنی، اور اخلاقی بے احتیاطی نے ابلاغ کو ایک خطرناک میدان بنا دیا ہے۔ صحافت اگر سچائی، امانت اور ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ اصلاح کے بجائے فساد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میڈیا کے لیے بھی ایک واضح ضابطہ فراہم کرتی ہیں: خبر کی تصدیق، زبان کی پاکیزگی، نیت کی درستگی، اور اثرات کی ذمہ داری۔ یہی اصول جدید صحافت کو معتبر بناتے ہیں۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اسلامی اقدار فرد کو صرف اخلاقی ضابطہ نہیں دیتیں بلکہ اسے اندرونی وقار بھی عطا کرتی ہیں۔ جدید انسان بسا اوقات دوسروں کی نظر میں اچھا دکھنے کے لیے جیتا ہے، مگر اپنی روح کے ساتھ سچا نہیں ہوتا۔ اسلام دکھاوے کے بجائے اخلاص سکھاتا ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی لوگوں کی داد نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ یہی احساس انسان کو منافقت سے بچاتا ہے، اس کی نیت کو صاف کرتا ہے، اور اس کے عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
معاشی زندگی میں بھی اسلامی اقدار کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ جدید معیشت نے بڑے پیمانے پر ترقی تو کی ہے، مگر ساتھ ہی استحصال، سود، دھوکہ، ذخیرہ اندوزی، ناپ تول میں کمی اور مالی ناانصافی بھی پیدا کی ہے۔ اسلام معاشی سرگرمیوں کو جائز، صاف، شفاف اور انسانی احترام کے دائرے میں رکھتا ہے۔ وہ دولت کے انبار لگانے سے زیادہ جائز کمائی، عدل اور سماجی بھلائی پر زور دیتا ہے۔ اگر اس اصول کو اپنایا جائے تو معیشت محض منافع کا کھیل نہیں رہتی بلکہ اجتماعی فلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
درحقیقت اسلامی اقدار اور جدید دور میں کوئی حقیقی تضاد نہیں۔ تضاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم جدیدیت کو اخلاق سے جدا کر دیں یا دین کو عملی زندگی سے الگ سمجھ لیں۔ اسلام نہ زمانے سے فرار سکھاتا ہے، نہ ترقی سے نفرت۔ وہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ زمانے میں رہو، مگر زمانے کے غلام نہ بنو؛ ترقی حاصل کرو، مگر اپنی روح نہ کھو؛ دنیا میں کامیاب ہو، مگر آخرت کو نہ بھولو۔ یہی وہ توازن ہے جس کی آج کے انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
آج کے دور میں سب سے بڑی اصلاح فرد کے اندر سے شروع ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہو، کردار مضبوط ہو، اور اقدار زندہ ہوں تو جدید دور ایک خطرہ نہیں رہتا بلکہ ایک موقع بن جاتا ہے، لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر اخلاقی شعور اور دینی وابستگی موجود ہو۔ اسلامی اقدار اسی شعور کو بیدار کرتی ہیں۔
لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اقدار کو محض تقریروں، کتابوں اور نعروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی روزمرہ زندگی، تعلیمی اداروں، میڈیا، سیاست، تجارت اور گھریلو نظام میں زندہ کریں۔ اسلام یہی کچھ دیتا ہے۔ اور اگر ہم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو پھر جدید دنیا میں بھی ہماری شناخت کمزور نہیں پڑے گی، بلکہ اور زیادہ روشن ہو گی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی