سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوچکے ‘ کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250927-08-15
کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں حالیہ بدترین سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر اور بڑے پیمانے پر جانی ومالی نقصان پر قوم کا ہر فرد دکھی ہے،جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکار اور کارکن پہلے دن سے فیلڈ میں موجود ہیں اور ریلیف کے کاموں میں مکمل تعاون کررہے ہیں، ا س وقت خصوصاًپنجاب،خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں بھرپور امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جماعت اسلامی بلاکسی رنگ اور نسل بلاتفریق قوم کی خدمت کررہی ہے جبکہ حکمران محض فوٹوسیشن اور بیانات دینے میں مصروف عمل ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام نگرچوک شریف آباد بہاولپور میں ’’الخدمت خیمہ بستی‘‘ کا دورہ کرنے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصراللہ چنا، ڈپٹی جنرل سیکرٹری علامہ حزب اللہ جکھرو بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کاشف سعید شیخ نے مزید کہا کہ الخدمت فائونڈیشن اور جماعت اسلامی نے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں متعدد ریلیف کیمپ،خیمہ بستیاں قائم کی ہیں جہاں سیلاب متاثرین کے لیے عارضی رہائش، کھانا، طبی امداد، مال مویشیوں کے لیے چارے کا انتظام ور بچوں کی تعلیم سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ بہاولپور ضلع میں الخدمت کچن قائم کیا گیا ہے جہاں روزانہ 2 وقت کھانا فراہم ،متاثرہ علاقوں میں دوائیں، طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کیمپ اور موبائل صحت یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔پنجاب کے ضلع بہاولپور میں جماعت اسلامی اور الخدمت نے ’’الخدمت کچن‘‘قائم کیا ہے جہاں مختلف ریلیف کیمپوں میں روزانہ 2 مرتبہ کھانا مہیا کیا جا رہا ہے ساتھ ہی خوراک کے پیکجز تقسیم کیے جا رہے ہیں اور پینے کا صاف بوتل بند پانی بھی متاثرین کو دیا جا رہا ہے۔ متاثرین کو راشن، ادویات، گھریلو ضروری اشیا اور معذوروں و بزرگوں کی خصوصی دیکھ بھال فراہم کی جا رہی،جماعت و الخدمت کے کارکنان مسلسل ان علاقوں میں کام کر رہے ہیں جنہیں سیلاب سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ہمارا اپنی قوم سے وعدہ ہے کہ جب تک متاثرین اپنے علاقوں میں واپس نہیں جاتے متاثرہ لوگوں کی آخری لمحے تک مدد جاری رکھیں گے۔انہوں نے سندھ کے صاحب ثروت لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بھائیوں کی امداد کے لیے آگے آئیں اور الخدمت کے سیلاب فنڈ میں بھرپور تعاون کریں۔
کراچی: امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ ضلعی نظم کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی علاقوں میں قائم کی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔