گرین شرٹس بنگلا دیشی دیوار گرانے کے لیے بے تاب
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
کراچی:
گرین شرٹس بنگلہ دیشی دیوار گرانے کیلیے بے تاب ہیں، آج ہونے والے سپرفور میچ میں فتح اتوار کو بھارت کیخلاف فائنل پر تصدیق کی مہر ثبت کر دے گی.
ٹیم مینجمنٹ کی بیٹنگ لائن پر تشویش ختم نہ ہو سکی، سری لنکا کیخلاف بھی فخر زمان، صائم ایوب، سلمان علی آغا اور محمد حارث ناکام رہے، حسین طلعت اور محمد نواز نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ٹیم کو فتح دلائی تھی.
اوپنر صاحبزادہ فرحان بہتر پرفارم کر رہے ہیں، بولرز خصوصا شاہین آفریدی کی کارکردگی اچھی ہے،گوکہ کاغذ پر گرین شرٹس زیادہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں، البتہ آخری سیریز میں ٹائیگرز نے انھیں زیر کر لیا تھا.
کپتان سلمان علی آغا نے شاہین آفریدی کو ٹیم کے لیے اثاثہ اور حقیقی میچ ونر قرار دیا ہے، دبئی کی سلو پچ پر پہلے بولنگ کرنے والی ٹیم فائدے میں رہے گی۔
بنگلہ دیش بھارت کیخلاف شکست کو بھلا کر عمدہ کارکردگی کیلیے پُرعزم ہے،انجرڈ کپتان لٹن داس کی شرکت بدستور غیریقینی ہے۔
بنگلہ دیش نے سپرفور کا آغاز سری لنکا کیخلاف چار وکٹ کی فتح کے ساتھ کیا تاہم گزشتہ رات بھارت سے میچ میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان کو بھارت نے 6 وکٹ سے ہرایا تاہم ٹیم نے سری لنکا کو 5 وکٹ سے زیر کر کے خود کو ایونٹ میں شامل رکھا۔
بلو شرٹس فائنل میں پہنچ چکے جبکہ دوسری ٹیم کا فیصلہ جمعرات کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچ سے ہوگا، گرین شرٹس کے حوصلے بلند ہیں، پلیئرز روایتی حریف سے اتوار کو ٹرافی کیلیے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
البتہ بنگال ٹائیگرز کو ترنوالہ سمجھنا غلطی ہوگی، جولائی کی آخری ہوم سیریز میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو1-2 سے زیر کیا تھا،پاکستانی ٹیم مینجمنٹ کو بیٹنگ لائن کی کارکردگی پرسخت تشویش ہے،5 میچز میں اب تک تین ہی نصف سنچریاں بنی ہیں۔
فخرزمان سے شائقین کو روایتی جارحانہ اننگز کا انتظار ہے، ان کے اوپننگ پارٹنر صاحبزادہ فرحان نے اب تک ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ 156 رنز بنائے ہیں، صائم ایوب نے سب سے زیادہ مایوس کیا،انھوں نے 4.60 کی ایوریج سے5 میچز میں 23 رنز بنائے، ابتدائی تینوں میچز میں تو وہ صفر پر رخصت ہوئے تھے۔
اسی طرح محمد حارث بھی ایک نصف سنچری کے سوا ناکام رہے،انھوں نے 100 رنز بنائے ہیں، سلمان علی آغا 11 کی اوسط سے45 رنز ہی اسکور کر سکے، حسن نواز بھی اپنے تینوں میچز میں ناکام رہے، بنگلہ دیش کو ہرانے کے لیے تمام بیٹرز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
سری لنکا کیخلاف مشکل وقت میں حسین طلعت اور محمد نواز نے عمدہ بیٹنگ سے ٹیم کو فتح دلائی تھی، بولنگ میں شاہین شاہ آفریدی، حارث رئوف اور صائم ایوب اب تک 6،6 شکار کر چکے ہیں، حسین طلعت نے سری لنکا کیخلاف عمدہ بولنگ کی تھی،ابرار احمد کی کارکردگی بھی اچھی رہی البتہ فہیم اشرف کمزور کڑی لگتے ہیں۔
دریں اثنا کپتان سلمان علی آغا نے سری لنکا کیخلاف فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے شاہین آفریدی کو ٹیم کے لیے اثاثہ اور حقیقی میچ ونر قرار دیا، انھوں نے کہا کہ ہم نے صرف 3 اوورز میں چار وکٹیں گنوائیں اس کے سوا یہ ایک بہترین میچ تھا، فیلڈنگ کوچ شین میکڈرمٹ نے ہمارے ساتھ بہت محنت کی، ہم نے انھیں راک اسٹار کا نام دیا ہے۔
کپتان نے کہا کہ محمد نواز بطور بیٹر بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں، امید ہے کہ وہ اور حسین طلعت اسی طرح کھیلتے رہیں گے،ابرار اچھی بالنگ کر رہے ہیں، ہم جب بھی مشکل صورتحال میں ہوں میں ان کی طرف ہی جاتا ہوں۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان کو ہرا کر فائنل میں رسائی کے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، کمر میں تکلیف کی وجہ سے لٹن داس کی اس میچ میں بھی شرکت مشکوک ہے،بولنگ میں توقعات مستفیض الرحمان اور رشد حسین سے وابستہ ہوں گی۔
بیٹنگ میں سیف حسن، توحید ہریدوئے اور جاکر علی امیدوں کا محور ہوں گے، دبئی کی سلو پچ پر ٹاس جیتنے والی ٹیم ہدف کے تعاقب کو ترجیح دے گی، پاکستان ٹیم گزشتہ روز ابوظبی سے دبئی پہنچ گئی،کھلاڑیوں نے آرام کو ترجیح دیتے ہوئے پریکٹس سے گریز کیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سری لنکا کیخلاف سلمان علی ا غا بنگلہ دیش میچز میں کے لیے
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔