غزہ کی تباہی پر سو ارب ڈالر اسرائیلی حکومت سے وصول کیے جائیں، ایردوان
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
استنبول۔: ترک صدر طیب ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششیں ادھوری ہی رہیں گی۔ ترک صدر طیب ایردوان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو، ان کی کابینہ اور ان کے ساتھ کھڑے نسل کش ٹولے کے فوری ٹرائل کا مطالبہ بھی کیا۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے استنبول میں منعقدہ بوسفرس ڈپلومیسی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ترک صدر نے غزہ کی تباہی پر سو ارب ڈالر اسرائیلی حکومت سے وصول کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مظلوموں کی آہیں نیتن یاہو کو ایک دن ضرور پکڑیں گی۔
ترک صدر نے کہا کہ متعدد ریاستوں نے فلسطین کو تسلیم کرنے میں تاخیر سے کام لیا لیکن دیر آید درست آید۔ یہ ایک اہم قدم ہے۔ تاہم انھوں نے یہ سوال اٹھایا کہ فلسطینی ریاست کو 65ہزار بے گناہ جانوں کے ضائع ہونے سے پہلے کیوں نہیں تسلیم کیا گیا؟۔
ایردوان نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نسل کشی کے نیٹ ورک کے سربراہ کی جھوٹی باتوں اور دھمکیوں کو سننے والا کوئی نہیں تھا، وہ خالی نشستوں سے خطاب کر رہے تھے۔ ترک صدر طیب ایردوان نے اقوامِ متحدہ اور دوسری عالمی تنظیموں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی نظام اپنی افادیت اور ساکھ کھو بیٹھا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو عالمی ادارے انسانیت کو تباہی سے بچانے کے لیے بنائے گئے تھے وہ مسائل کے حل کے بجائے خود مسئلے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ غزہ میں بھوک کو بے دردی سے تباہ کن ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو لوگ غزہ کے مسئلے کا ذمہ دار حماس کو ٹھہراتے تھے، اب آہستہ آہستہ اصل حقیقت جاننے لگے ہیں۔
انھوں نے خبردار کیا کہ عالمی برادری چاہے خاموش رہے،ترکیہ خطے میں مظلوموں کی تکالیف سے منہ نہیں موڑ سکتا۔صدر ایردوان نے کہا کہ جیسے جنگ کے سوداگر آج آگ پر تیل ڈال رہے ہیں،ترک صدر طیب ایردوان نے ورلڈ کپ 2026 سے اسرائیل کو باہر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ ترک فٹبال فیڈریشن نے اپنا موقف ظاہر کر دیا ہے اور حکومت بھی اس پر نظرثانی کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ترک صدر طیب ایردوان نے نے کہا کہ انھوں نے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔