سیلاب متاثرین اللہ کے مہمان ہیں ،کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ امداد ملے گی: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
ویب ڈیسک :وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین حکومت کے لیے اللہ کی طرف سے مہمان ہیں، کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے مالی امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جتنے لوگوں کو ریسکیو کیا انہیں اپنا مہمان سمجھتے ہیں، میرے لیے وہ سیلاب زدگان نہیں اللہ تعالی کے مہمان ہیں، سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، جس کا گھر مکمل تباہ ہوا اسے 10 لاکھ روپے ملیں گے، جس کا مٹی کا گھر گرا اسے 5 لاکھ روپے ملیں گے۔
گھروں اورگلیوں سے موٹر سائیکلیں و دیگر سامان چوری کرنیوالا 2 رکنی گروہ گرفتار
مریم نواز کا کہنا تھا جس کی گائے بھینس بہہ گئی ہے اسے 5 لاکھ روپے ملیں گے اور جس کی بھیڑ بکڑی بہہ گئی ہے اسے 50 ہزار روپے ملیں گے، سیلاب سے پہنچنے والے نقصان پر کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ امداد دیں گے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا پنجاب کے ہر ضلع میں بے گھر لوگوں کیلئے گھر بنائے جارہے ہیں، وزیراعلیٰ کا کام ہے کہ دکھ کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو حکومت میں ہو اور چین سے سو رہا ہو، 15 لاکھ گھرانوں کو راشن کارڈ فراہم کیا جا رہا ہے، اپنا گھر اسکیم کے تحت 80 ہزار گھر بن رہے ہیں۔
ٹام ہالینڈ نئی فلم کی شوٹنگ کے دوران زخمی
پنجاب میں حالیہ سیلاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا، 25 لاکھ افراد کو سیلاب آنے سے پہلے محفوظ مقام پر منتقل کیا، سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، 2 ملین سے زیادہ جانوروں کو بھی محفوظ مقام پر پہنچایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔