اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کی دھمکی آمیز تقریر: ایران، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کے قتل کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کھلے عام قتل اور جارحیت کا اعتراف کرتے ہوئے حماس، حزب اللہ، ایران اور یمن کے حوثیوں کو کھلی دھمکیاں دیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے ڈھٹائی کے ساتھ کہا کہ اسرائیل نے اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارا اور آئندہ بھی ایسا ہی کرے گا، حماس سے کہتا ہوں ہتھیار ڈال دو، یرغمالیوں کو رہا کرو، ورنہ مار دیے جاؤ گے۔
انہوں نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اداروں کی ان رپورٹس کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔
نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ائیلی افواج نے حماس رہنما السنوار کو شہید کیا اور غزہ میں اپنا مشن مکمل کریں گے کیونکہ حماس کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تہران نے اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام بنایا تھا لیکن اسرائیل نے ان کے ملٹری کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو ہلاک کر دیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعاون سے امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، ایران کے یورینیئم کے ذخائر ختم کیے جائیں اور اسے دوبارہ جوہری توانائی حاصل نہ کرنے دی جائے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید ہٹ دھرمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ پر حملے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسرائیل پر ہزاروں راکٹس داغے تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے انہیں نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم نے عراق میں ملیشیاؤں کے ہتھیار اور شام میں صدر بشار الاسد کے اسلحہ ڈپو تباہ کیے ہیں، حوثیوں کی زیادہ تر جنگی صلاحیت بھی ختم کر دی گئی ہے اور اسرائیل آئندہ بھی دنیا بھر میں اس نوعیت کے حملے جاری رکھے گا۔
خیال رہےکہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل امداد کے نام پر دراصل دہشت گردی کر رہے ہیں، نام نہاد انسانی امداد کی آڑ میں نہ صرف ناکہ بندی مزید سخت کی جارہی ہے بلکہ غزہ کے باسیوں کو بھوک، قحط اور بمباری سے مارنے کی منظم سازش جاری ہے، عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ مسلم حکمران بھی بےحسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔