برکینا فاسو؛ فوجی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 60 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
BURKINA FASO:
افریقی ملک برکینا فاسو کے شمالی صوبے لوروم میں قائم ایک فوجی چیک پوسٹ پر حملے میں 60 اہلکار ہلاک ہوگئے، جس کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک گروپ نے قبول کرلی ہے۔
خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برکینا فاسو کے انٹیلیجینس گروپ نے بتایا کہ صوبہ لوروم میں ملٹری پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری القاعدہ سے منسلک گروپ جے این آئی ایم نے قبول کرلی ہے۔
خطے میں دہشت گردی کے واقعات پر نظر رکھنے والے امریکی ادارے نے بتایا کہ مذکورہ گروپ نے اس حوالے سے پیغامات پوسٹ کیے ہیں، جس میں وہ برکینا فاسو اور مالی میں ہونے والے واقعات کی ذمہ داری لے رہا ہے۔
برکینا فاسو کی حکومت کی جانب سے تازہ حملوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گرد گروپ نے ایک ویڈیو پیغام میں شمالی برکینا فاسو کے علاقے ڈی جیبو کے شہریوں کو اپنی حفاظت کے لیے علاقے چھوڑنے کو کہا جبکہ دیگر علاقوں میں بھی اسی گروپ کی جانب سے حملے کیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے بتایا تھا کہ ڈی جیبو میں ایک فوجی بیس پر اتوار کو صبح سویرے حملہ کیا گیا تھا، اس کے علاوہ ایک پولیس اسٹیشن اور مارکیٹ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برکینا فاسو گروپ نے
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔