UrduPoint:
2026-07-24@07:14:44 GMT

بھارت نے چینی، ترک خبر رساں ایجنسیوں کو بلاک کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

بھارت نے چینی، ترک خبر رساں ایجنسیوں کو بلاک کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 مئی 2025ء) چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا، کمیونسٹ پارٹی کے انگریزی زبان کے اخبار گلوبل ٹائمز اور ترکی کے ٹی آرٹی ورلڈ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اکاونٹس نئی دہلی نے بدھ کی سہ پہر سے بھارت میں بلاک کر دیے۔

ان میڈیا اکاونٹس کو ایسے وقت بلاک کیا گیا ہے جب بھارت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ہفتے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بارے میں غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

بھارت کے ساتھ تنازعہ: سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کی حمایت میں اضافہ

بھارت اور پاکستان گزشتہ ہفتے جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے جب جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک ایک دوسرے پر میزائل، ڈرون اور شیل فائرنگ کے حملے کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

کشیدگی 22 اپریل کو شروع ہوئی جب انتہا پسندوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک حملے میں 26 شہریوں کو ہلاک کر دیا، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔

بھارت نے پاکستان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے اور مدد کرنے کا الزام لگایا، اسلام آباد اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ’غلط معلومات کی جنگ‘ بدستور جاری

دونوں طرف سے حملوں کے بعد 10 مئی کو امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ میں جنگ بندی ہوئی جو ابھی تک برقرار ہے۔

'غلط معلومات' کے خلاف بھارت کا کریک ڈاؤن

بھارت اور پاکستان نے گزشتہ ہفتے کی فوجی جھڑپوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف سرکاری ورژن پیش کیے ہیں، دونوں ممالک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور نیوز آرگنائزیشنز غیر مصدقہ خبروں کو عام کر رہے ہیں۔

چین میں بھارتی سفارت خانے نے سات مئی کو چین کے گلوبل ٹائمز کو ایک مضمون کے بارے میں متنبہ کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فضائیہ نے "رات بھر کی فضائی کارروائی کے دوران ایک اور بھارتی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔" ان اطلاعات کو چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا سے منسوب کیا گیا تھا۔

پاک بھارت کشیدگی: سوشل میڈیا پر میمز کا ’طوفان‘ برپا

پوسٹ میں کہا گیا ہے،"ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ آپ اپنے حقائق کی تصدیق کریں اور اس قسم کی غلط معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اپنے ذرائع کا جائزہ لیں۔

"

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے پانچ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ لیکن بھارتی فوج نے کہا کہ اس کے تمام پائلٹ جو حملے میں شامل تھے وہ بحفاظت گھر واپس آچکے ہیں۔

بھارتی سفارت خانے نے بھارت کے پریس انفارمیشن بیورو کا بھی حوالہ دیا، جس نے گرنے والے بھارتی لڑاکا طیاروں کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کو جعلی قرار دیا ہے۔

جب سے کشمیر کا بحران شروع ہوا ہے، بھارت کی حکومت نے ایکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ تقریباً 8000 اکاؤنٹس کو بلاک کرے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے پاکستان سے منسلک مواد ہٹائے۔

ان میں سے بہت سے اکاؤنٹس معتبر بھارتی میڈیا اداروں اور افراد جیسے مکتوب میڈیا، کشمیریت، دی وائر اور انورادھا بھسین جیسے صحافیوں کے تھے۔ حکومت کے اس اقدام کی آزادی صحافت کے کارکنوں نےتنقید کی ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا چینی اور ترکی کے نیوز اکاؤنٹس مذکورہ بالا 8,000 اکاؤنٹس کا حصہ ہیں۔ چین اور ترکی پاکستان کے اتحادی

گزشتہ ہفتے فائرنگ کے تبادلے کے دوران، ترکی نے بھارت کے "اشتعال انگیز اقدامات" اور "شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں" پر تنقید کی تھی۔

بیجنگ نے کشیدگی میں ثالثی کی پیشکش کی، لیکن پاکستان کو اپنا "آزمودہ ساتھی" بھی کہا اور کہا ہے کہ دو طرفہ تعلقات "بہت مضبوط" ہیں۔

بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے بلاک کیے گئے اکاونٹس کے متعلق ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اس دوران بھارتی سوشل میڈیا پر ''ترکی پر پابندی عائد کرو" مہم چل رہی ہے۔ بھارتی صارفین نے انقرہ کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

جاوید اختر مصنف: مہیما کپور

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوشل میڈیا پر غلط معلومات گزشتہ ہفتے بھارت کے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف