بھارت نے چینی، ترک خبر رساں ایجنسیوں کو بلاک کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 15 مئی 2025ء) چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا، کمیونسٹ پارٹی کے انگریزی زبان کے اخبار گلوبل ٹائمز اور ترکی کے ٹی آرٹی ورلڈ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اکاونٹس نئی دہلی نے بدھ کی سہ پہر سے بھارت میں بلاک کر دیے۔
ان میڈیا اکاونٹس کو ایسے وقت بلاک کیا گیا ہے جب بھارت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ ہفتے روایتی حریف پاکستان کے ساتھ ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بارے میں غیر ملکی میڈیا آؤٹ لیٹس کی جانب سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔
بھارت کے ساتھ تنازعہ: سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کی حمایت میں اضافہ
بھارت اور پاکستان گزشتہ ہفتے جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے جب جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک ایک دوسرے پر میزائل، ڈرون اور شیل فائرنگ کے حملے کر رہے تھے۔
(جاری ہے)
کشیدگی 22 اپریل کو شروع ہوئی جب انتہا پسندوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک حملے میں 26 شہریوں کو ہلاک کر دیا، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔
بھارت نے پاکستان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے اور مدد کرنے کا الزام لگایا، اسلام آباد اس الزام کی تردید کرتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ’غلط معلومات کی جنگ‘ بدستور جاری
دونوں طرف سے حملوں کے بعد 10 مئی کو امریکی صدر ٹرمپ کے دباؤ میں جنگ بندی ہوئی جو ابھی تک برقرار ہے۔
'غلط معلومات' کے خلاف بھارت کا کریک ڈاؤنبھارت اور پاکستان نے گزشتہ ہفتے کی فوجی جھڑپوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف سرکاری ورژن پیش کیے ہیں، دونوں ممالک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور نیوز آرگنائزیشنز غیر مصدقہ خبروں کو عام کر رہے ہیں۔
چین میں بھارتی سفارت خانے نے سات مئی کو چین کے گلوبل ٹائمز کو ایک مضمون کے بارے میں متنبہ کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کی فضائیہ نے "رات بھر کی فضائی کارروائی کے دوران ایک اور بھارتی لڑاکا طیارہ مار گرایا۔" ان اطلاعات کو چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا سے منسوب کیا گیا تھا۔
پاک بھارت کشیدگی: سوشل میڈیا پر میمز کا ’طوفان‘ برپا
پوسٹ میں کہا گیا ہے،"ہم آپ کو مشورہ دیں گے کہ آپ اپنے حقائق کی تصدیق کریں اور اس قسم کی غلط معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اپنے ذرائع کا جائزہ لیں۔
"پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے پانچ بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں۔ لیکن بھارتی فوج نے کہا کہ اس کے تمام پائلٹ جو حملے میں شامل تھے وہ بحفاظت گھر واپس آچکے ہیں۔
بھارتی سفارت خانے نے بھارت کے پریس انفارمیشن بیورو کا بھی حوالہ دیا، جس نے گرنے والے بھارتی لڑاکا طیاروں کی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کو جعلی قرار دیا ہے۔
جب سے کشمیر کا بحران شروع ہوا ہے، بھارت کی حکومت نے ایکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ تقریباً 8000 اکاؤنٹس کو بلاک کرے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے پاکستان سے منسلک مواد ہٹائے۔
ان میں سے بہت سے اکاؤنٹس معتبر بھارتی میڈیا اداروں اور افراد جیسے مکتوب میڈیا، کشمیریت، دی وائر اور انورادھا بھسین جیسے صحافیوں کے تھے۔ حکومت کے اس اقدام کی آزادی صحافت کے کارکنوں نےتنقید کی ہے۔
فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ آیا چینی اور ترکی کے نیوز اکاؤنٹس مذکورہ بالا 8,000 اکاؤنٹس کا حصہ ہیں۔ چین اور ترکی پاکستان کے اتحادیگزشتہ ہفتے فائرنگ کے تبادلے کے دوران، ترکی نے بھارت کے "اشتعال انگیز اقدامات" اور "شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملوں" پر تنقید کی تھی۔
بیجنگ نے کشیدگی میں ثالثی کی پیشکش کی، لیکن پاکستان کو اپنا "آزمودہ ساتھی" بھی کہا اور کہا ہے کہ دو طرفہ تعلقات "بہت مضبوط" ہیں۔
بھارت کی وزارت اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے بلاک کیے گئے اکاونٹس کے متعلق ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
اس دوران بھارتی سوشل میڈیا پر ''ترکی پر پابندی عائد کرو" مہم چل رہی ہے۔ بھارتی صارفین نے انقرہ کے خلاف پابندیوں کا مطالبہ کیا۔
جاوید اختر مصنف: مہیما کپور
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوشل میڈیا پر غلط معلومات گزشتہ ہفتے بھارت کے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔