عمران خان نے شہباز شریف کی مذاکرات کیلئے پیشکش قبول کرلی، بات چیت میڈیا کی چکاچوند سے دور رکھنا چاہتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک اہم سیاسی پیش رفت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کی حالیہ پیشکش کے بعد حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، عمران خان نے پیر کے روز اڈیالہ میں ملاقات کیلئے آئے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو مذاکرات کی اجازت دی۔ تاہم سابق وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مذاکرات ٹی وی کیمروں کی چکاچوند سے دور ہوں تاکہ بامعنی نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔
پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اب باضابطہ طور پر حکومت سے بات چیت آگے بڑھانے کیلئے رجوع کریگی۔ پارٹی کا خیال ہے کہ ماضی میں مذاکرات کیلئے ہونے والی کوششیں میڈیا کی اسکروٹنی کی وجہ سے ناکام ہوئیں، لہٰذا اس مرتبہ زیادہ محتاط اور توجہ کے ساتھ بات چیت کی ضرورت ہے۔
دی نیوز نے رابطہ کیا تو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی پیشکش عمران خان تک پہنچا دی ہے۔ تاہم، انہوں نے بات چیت کی تفصیلات یا عمران خان کی جانب سے دی گئی ہدایت کے مطابق مذاکرات کی سمت کے حوالے سے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ہمارے درمیان کیا بات چیت ہوئی۔ واضح رہے کہ یہ پیشرفت وزیر اعظم شہباز شریف کے قومی اسمبلی سے حالیہ خطاب کے بعد سامنے آئی ہے۔ خطاب کے دوران، وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو قومی مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
اُس وقت جہاں بیرسٹر گوہر علی خان نے تجویز کا خیر مقدم کیا تھا، وہیں پارٹی حلقوں نے واضح کر دیا تھا کہ عمران خان کی واضح رضامندی کے بغیر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی۔ پی ٹی آئی کے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ مذاکرات کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہو۔
ایک ذریعے نے مزید کہا کہ عمران خان اس عمل کو آسان بنانے کی خاطر اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے سے ملاقات کیلئے بھی تیار ہیں۔ یاد رہے کہ بھارت کی طرف سے حالیہ غلط مہم جوئی کے بعد ملک میں سیاسی مفاہمت کے بڑھتے مطالبات کے درمیان یہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ پس پردہ یہ بات چیت کسی بریک تھرو کا باعث بنے گی یا نہیں۔
انصار عباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مذاکرات کی شہباز شریف پی ٹی ا ئی بات چیت
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔