مسٹر مودی بی ایل اے ، ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں، مسٹر مودی اپنے بھاشن آپ اپنے پاس رکھیں، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے ، اس خواہش کو کمزوری مت سمجھنا

مودی سندھ طاس معاہدے پر کبھی سوچنا بھی نہیں، آپ سمجھتے تھے کہ اس علاقے کے تھانیدار ہے یہ جھوٹا تاثر ختم ہوگیا، مربوط ڈائیلاگ ہوگا،
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ

وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تاریخ گواہ رہے گی کیسے چند گھنٹوں میں پاکستان کے محافظوں نے بھارتی بلاجواز جارحیت کو خاک میں ملایا، بہادر مسلح افواج نے مثالی انداز میں مادر وطن کا دفاع کیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا ہے اور اس دوران بھارتی جارحیت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص میں شریک افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی ہے ۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے ۔وزیرِ اعظم کے ساتھ وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال اور عطاء تارڑ بھی پسرور چھاؤنی پہنچے ۔اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسلح افواج نے دشمن کی بزدلانہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا، معصوم شہریوں پر کھلی جارحیت اور انہیں دہشت گرد قرار دینا نہایت شرمناک ہے ، معصوم شہریوں پر کھلی جارحیت تمام بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور اخلاقیات کے منافی ہے ۔شہباز شریف نے آپریشن بنیان مرصوص میں جوانوں کی غیر معمولی جرأت و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ جو جنگ پاکستان نے لڑی اور جیتی ہے اس پر کتابیں لکھی جائیں گی، تینوں مسلح افواج ان کی قیادت اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، پاک فوج نے پاکستان کے دشمنوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیے ۔وزیراعظم نے کہا کہ مودی 1971میں مکتی باہنی کو کس نے ٹریننگ دی تھی؟ دنیا جانتی ہے ، مسٹر مودی بی ایل اے ، ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں، مسٹر مودی اپنے بھاشن آپ اپنے پاس رکھیں، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے ، اس خواہش کو کمزوری مت سمجھنا، مودی سندھ طاس معاہدے پر کبھی سوچنا بھی نہیں، آپ سمجھتے تھے کہ اس علاقے کے تھانیدار ہے یہ جھوٹا تاثر ختم ہوگیا۔شہباز شریف نے کہا کہ مربوط ڈائیلاگ ہوگا، میٹھا میٹھا ہپ ہپ ہم نہیں ہونے دیں گے ، ہماری فوج دن رات مقابلہ کرکے فتنہ الخوارج کو جہنم واصل کر رہی ہے ، مسٹر مودی دوبارہ یہ حرکت کی تو منہ کی کھاؤ گے ، مسٹر مودی دوباہ حملہ کیا تو ہمیں تیار پاؤ گے ، مودی ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا اس سے فائدہ اٹھائیں اپنی قوم کو مزید دھوکا نہ دیں، پانی ہماری ریڈ لائن ہے اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے ، پانی روکنے کی کوشش کی تو واضح کرتے ہیں پانی اور خون ساتھ نہیں چل سکتے ۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر جامع مذاکرات کریں گے ، رافیل کے تکبر میں مبتلا بھارت کا غرور خاک میں مل گیا، بھارت نے دوبارہ مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا تو ہمیں تیار پائے گا، دوبارہ جارحیت کی تو ایسا جواب دیں گے کہ سوچا بھی نہیں ہوگا، مودی سے کہتا ہوں آگ لگانے کی بجائے آگے بڑھنے کی بات کریں،پاکستان امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے ۔وزیر اعظم آئندہ چند روز کے دوران پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران و جوانوں سے ملاقات کے لیے ایئر اور نیول بیسز کا بھی دورہ کریں گے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ

وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈی

وزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔ 

دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔

پاک چین سرمایہ کاری، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیلئے مفاہمت کی 15 یادداشتوں پر دستخط

اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...

انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ