پانی ہماری ریڈ لائن ہے، دوبارہ جارحیت کا جواب بھارت نے سوچا بھی نہ ہوگا، وزیر اعظم
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
مسٹر مودی بی ایل اے ، ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں، مسٹر مودی اپنے بھاشن آپ اپنے پاس رکھیں، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے ، اس خواہش کو کمزوری مت سمجھنا
مودی سندھ طاس معاہدے پر کبھی سوچنا بھی نہیں، آپ سمجھتے تھے کہ اس علاقے کے تھانیدار ہے یہ جھوٹا تاثر ختم ہوگیا، مربوط ڈائیلاگ ہوگا،
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ تاریخ گواہ رہے گی کیسے چند گھنٹوں میں پاکستان کے محافظوں نے بھارتی بلاجواز جارحیت کو خاک میں ملایا، بہادر مسلح افواج نے مثالی انداز میں مادر وطن کا دفاع کیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا ہے اور اس دوران بھارتی جارحیت کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص میں شریک افسروں اور جوانوں سے ملاقات کی ہے ۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ تھے ۔وزیرِ اعظم کے ساتھ وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ آصف، احسن اقبال اور عطاء تارڑ بھی پسرور چھاؤنی پہنچے ۔اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مسلح افواج نے دشمن کی بزدلانہ جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا، معصوم شہریوں پر کھلی جارحیت اور انہیں دہشت گرد قرار دینا نہایت شرمناک ہے ، معصوم شہریوں پر کھلی جارحیت تمام بین الاقوامی قوانین، اصولوں اور اخلاقیات کے منافی ہے ۔شہباز شریف نے آپریشن بنیان مرصوص میں جوانوں کی غیر معمولی جرأت و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ جو جنگ پاکستان نے لڑی اور جیتی ہے اس پر کتابیں لکھی جائیں گی، تینوں مسلح افواج ان کی قیادت اور جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں، پاک فوج نے پاکستان کے دشمنوں کے ہوش ٹھکانے لگا دیے ۔وزیراعظم نے کہا کہ مودی 1971میں مکتی باہنی کو کس نے ٹریننگ دی تھی؟ دنیا جانتی ہے ، مسٹر مودی بی ایل اے ، ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں، مسٹر مودی اپنے بھاشن آپ اپنے پاس رکھیں، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے ، اس خواہش کو کمزوری مت سمجھنا، مودی سندھ طاس معاہدے پر کبھی سوچنا بھی نہیں، آپ سمجھتے تھے کہ اس علاقے کے تھانیدار ہے یہ جھوٹا تاثر ختم ہوگیا۔شہباز شریف نے کہا کہ مربوط ڈائیلاگ ہوگا، میٹھا میٹھا ہپ ہپ ہم نہیں ہونے دیں گے ، ہماری فوج دن رات مقابلہ کرکے فتنہ الخوارج کو جہنم واصل کر رہی ہے ، مسٹر مودی دوبارہ یہ حرکت کی تو منہ کی کھاؤ گے ، مسٹر مودی دوباہ حملہ کیا تو ہمیں تیار پاؤ گے ، مودی ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا اس سے فائدہ اٹھائیں اپنی قوم کو مزید دھوکا نہ دیں، پانی ہماری ریڈ لائن ہے اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے ، پانی روکنے کی کوشش کی تو واضح کرتے ہیں پانی اور خون ساتھ نہیں چل سکتے ۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر جامع مذاکرات کریں گے ، رافیل کے تکبر میں مبتلا بھارت کا غرور خاک میں مل گیا، بھارت نے دوبارہ مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا تو ہمیں تیار پائے گا، دوبارہ جارحیت کی تو ایسا جواب دیں گے کہ سوچا بھی نہیں ہوگا، مودی سے کہتا ہوں آگ لگانے کی بجائے آگے بڑھنے کی بات کریں،پاکستان امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہے ۔وزیر اعظم آئندہ چند روز کے دوران پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے افسران و جوانوں سے ملاقات کے لیے ایئر اور نیول بیسز کا بھی دورہ کریں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔