نجی حج سکیم بحران ،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیر اعظم کو خط لکھ ڈالا
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے نجی حج سکیم سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے خصوصی رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے خط کے ذریعے وزیراعظم کی فوری توجہ اس مسئلہ کی جانب مبذول کرائی ہے جس سے 67ہزار پاکستانیوں کے رواں سال حج کی سعادت سے محروم ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ انھوں نے وزیراعظم کو تجویز دی ہے کہ وہ سعودی ولی عہد سے براہ راست رابطہ کریں، اس سے مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے۔ حکومت اعلیٰ سطحی کمیٹی فوری طور پر سعودی عرب بھیجے جو سعودی حکومت کے ساتھ مل کر انتظامات کا جائزہ لے اور ان کے مسائل کے حل کو یقینی بنائے۔
ویڈیو لیک ہونے کے بعد کنول شوزب کا رد عمل بھی سامنے آگیا
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق نائیجیریا کے 40 ہزار مزید حجاج کو کچھ دن پہلے اجازت دی گئی ہے، وزیراعظم کی بروقت مداخلت سے پاکستانی حجاج کو بھی اجازت مل سکتی ہے۔حج ٹور آپریٹرز کے مطابق پاکستان کا کوٹہ ختم نہیں ہوا، منیٰ اور عرفات میں جگہ بھی دستیاب ہے، اعلیٰ سطحی رابطے سے پاکستان کو بھی گنجائش مل سکتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت حجاج کی سعودی عرب بھجوائی گئی رقوم کا تحفظ کرے اور دینی فریضہ ادا نہ کیے جانے کی صورت میں ان رقوم کی واپسی کو یقینی بنائے۔ نجی حج سکیم بحران کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انتظامی غفلت کے مرتکب افراد خواہ وہ سرکاری ملازم ہوں یا حج آرگنائزر کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں حج پالیسی کی منظوری میں تاخیر، پرائیویٹ حج ٹور آپریٹرز کی سستی اور سعودی عرب میں نئے نظام کی تنفیذ کی وجہ سے ایک بڑا بحران پیدا ہو گیا ہے اور خدشہ ہے کہ پرائیویٹ حج سکیم کے تحت جانے والے 67 ہزار پاکستانی حجاج نہ صرف اس سعادت سے محروم رہیں گے بلکہ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
جاوید اختر نے پاک بھارت کشیدگی پر بات کرنے سے انکار کردیا
امیر جماعت اسلامی نے اس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ صورت حال برقرار رہی تو پرائیوٹ حج کمپنیوں کے لیے بھی بڑا مالی بحران پیدا ہو سکتا ہے اور 100 ارب سے زیادہ رقم ڈوب جانے کا بھی خطرہ ہے۔ انھوں نے وزیراعظم کو لکھا کہ حج کمپنیوں کی طرف سے فنڈ زسعودی عرب بھجوائے جاچکے ہیں، حج ٹور آپر یٹر ز ادائیگیوں کے ساتھ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے ہوٹلز سے معاہدہ کر کے رقوم بھیج چکے ہیں، جن کی واپسی ایک مشکل عمل ہے (سال 2023 اور 2024 کے حج کی بقایا رقوم ابھی تک واپس نہیں آسکی ہیں)۔ اس سے آئندہ سال بھی حج ٹور آپریٹرز اور حجاج کرام دونوں کے لیے مسائل ہوں گے، اور حکومت کے لیے بھی مشکل کا باعث بنیں گے۔وزیراعظم ذاتی دلچسپی لے کر مسئلہ کو حل کرائیں۔
190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران خان، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: انھوں نے حج سکیم پیدا ہو حج ٹور کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی