آپریشن بنیان مرصوص کی شاندار کامیابی پر یوم تشکر منانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے اور معرکہ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں 16 مئی 2025ء کو یوم تشکر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یوم تشکر کے موقع پر دن کا آغاز مسجدوں میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں سے کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت نے آپریشن "بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص" کی شاندار کامیابی پر قومی سطح پر یوم تشکر منانے کا اعلان کر دیا۔ پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے اور معرکہ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں 16 مئی 2025ء کو یوم تشکر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یوم تشکر کے موقع پر دن کا آغاز مسجدوں میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں سے کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومت میں 21 توپوں کی سلامی دی جائے گی۔ مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا، پرچم کشائی کی تقریبات وفاقی اور صوبائی دارالحکومت میں منعقد کی جائیں گی۔
ملک بھر میں یادگار شہداء پر پھول رکھے جائیں گے اور دعائیہ تقاریب منعقد ہوں گی، آپریشن بنیان مرصوص کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے لواحقین سے خصوصی ملاقاتیں کی جائیں گی۔ یوم تشکر کی نمایاں تقریب کل رات پاکستان مونومنٹ اسلام آباد میں منعقد ہوگی، تقریب میں تمام مکاتب فِکر سے اہم شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعظم ہوں گے جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہ بھی تقریب کا حصہ ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یوم تشکر منانے کا اعلان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔