زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہماری ترجیح ہے: وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
وزیرِ اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ زرعی خود کفالت کےلیے زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہماری ترجیح ہے۔
وزیرِ اعظم شہبازشریف کی زیرِ صدارت زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق بنائے گئے ورکنگ گروپ نے تجاویز پیش کیں۔
اجلاس میں وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک شریک ہوئے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے، معیشت کی فوری ترقی کےلیے زرعی شعبے کی وسیع استعداد کو بروئے کار لائیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب گندم پیکیج کے حوالے سے ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز نے گندم کے کاشتکا روں کیلئے پیکیج کا اعلان کر دیا۔
ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار اور طویل مدتی زرعی صنعتی ترقی کی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، زراعت کے ساتھ جنگلات کا فروغ ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ کرنے کےلیے انتہائی اہم ہیں، زرعی شعبہ کی ترقی کےلیے متعلقہ فریقین کی مشاورت سے مربوط حکمت عملی بنائی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے صوبوں سے مشاورت بھی یقینی بنائی جائے۔
وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ زرعی بیجوں کے سرٹیفیکیشن کے نظام میں جاری اصلاحات میں تیزی لائی جائے، اعلیٰ معیار کے بیجوں کے فروغ سے متعلق مؤثر لائحہ عمل بنایا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی شعبے سے متعلق جامع ریگولیٹری فریم ورک ترتیب دینے اور زرعی شعبے سے متعلق نیشنل ایگری انوویشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف شریف نے کہا کہ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :