---فائل فوٹو 

وزیرِ اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ زرعی خود کفالت کےلیے زراعت کے شعبہ کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہماری ترجیح ہے۔

وزیرِ اعظم شہبازشریف کی زیرِ صدارت زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں زرعی شعبے میں اصلاحات سے متعلق بنائے گئے ورکنگ گروپ نے تجاویز پیش کیں۔

اجلاس میں وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیرِ موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک شریک ہوئے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو زرخیز زمین، قابل زرعی ماہرین، محنتی کسانوں سے نوازا ہے، معیشت کی فوری ترقی کےلیے زرعی شعبے کی وسیع استعداد کو بروئے کار لائیں گے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے گندم کے کاشتکاروں کیلئے پیکیج کا اعلان کر دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب گندم پیکیج کے حوالے سے ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز نے گندم کے کاشتکا روں کیلئے پیکیج کا اعلان کر دیا۔

ہدایت دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ملکی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی تحقیق پر توجہ مرکوز کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار اور طویل مدتی زرعی صنعتی ترقی کی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، زراعت کے ساتھ جنگلات کا فروغ ماحولیاتی تبدیلیوں کامقابلہ کرنے کےلیے انتہائی اہم ہیں، زرعی شعبہ کی ترقی کےلیے متعلقہ فریقین کی مشاورت سے مربوط حکمت عملی بنائی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی کے لیے صوبوں سے مشاورت بھی یقینی بنائی جائے۔

وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ زرعی بیجوں کے سرٹیفیکیشن کے نظام میں جاری اصلاحات میں تیزی لائی جائے، اعلیٰ معیار کے بیجوں کے فروغ سے متعلق مؤثر لائحہ عمل بنایا جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے زرعی شعبے سے متعلق جامع ریگولیٹری فریم ورک ترتیب دینے اور زرعی شعبے سے متعلق نیشنل ایگری انوویشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: اعظم شہباز شریف شریف نے کہا کہ

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری