کس ٹیم نے کونسے غیرملکی کھلاڑی کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنایا؟ جانیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سامنے بھارت کی انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) اندھیروں میں ڈوبنے لگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان سپر لیگ میں نامور غیر ملکی کرکٹرز 10ویں ایڈیشن کے بقیہ میچز کھیلنے پر رضامند ہوگئے ہیں تاہم دنیا کی امیر ترین کرکٹ لیگ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں غیر ملکی کرکٹرز سیکیورٹی کو لیکر تشویش میں مبتلا ہیں۔
پی ایس ایل میں شریک کونسی فرنچائز نے کتنے غیر ملکی کرکٹرز کی خدمات حاصل کیں، جانیے۔۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل؛ وارنر کے بعد ہیلز نے بھی پاکستان آنے کا اعلان کردیا
کراچی کنگز کو کپتان ڈیوڈ وارنر کے علاوہ 6 غیر ملکی کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل ہوگا، جن میں ٹم سائفرٹ، جیمز ونس، محمد نبی، بین مکڈرمٹ اور جارج منسی شامل ہیں۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کو جیمز نیشم، ٹائمل ملز، بین دروشوئس، راسی وین ڈر ڈوسن اور ایلکس ہیلز کی خدمات حاصل ہوں گی۔
مزید پڑھیں: بابراعظم کو غیر ملکی کرکٹر ٹرول کرنے لگے، مگر کیوں؟
پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کی ٹاپ ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو غیر ملکی کھلاڑیوں میں دنیش چندیمل، اویشکا فرنینڈو، گلبدین نائب، رائلی روسو اور فن ایلن کا ساتھ حاصل ہوگا۔
پشاور زلمی کو نامور غیر ملکی کھلاڑیوں میں ٹام کوہلر کیڈمور، میکس برائنٹ، نجیب اللہ زدران اور لیوک ووڈ جیسے اسٹار کا ساتھ میسر ہوگا۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل کا اضافی بوجھ! فرنچائزز کی پریشانی پر بورڈ سہارا بن گیا
اسی طرح لاہور قلندرز کو بھانوکا راجا پاکسے، سکندر رضا، شکیب الحسن کی خدمات حاصل رہیں گی، اسکے علاوہ فرنچائز دیگر کھلاڑیوں سے تاحال بات چیت جاری ہے۔
مزید پڑھیں: غیر ملکی کھلاڑیوں کے خدشات، آئی پی ایل انتظامیہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
ادھر انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے اسٹار پلئیر سیکیورٹی خدشات اور نیشنل ڈیوٹی کو بہانہ بناکر کھیلنے سے انکار کررہے ہیں۔
ایسے میں آئی پی ایل انتظامیہ نے گھٹنے ٹیکتے ہوئے فرنچائزز کو کھلاڑیوں کیساتھ وقتی متبادل کے طور کھلانے کا آپشن بھی دیدیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: غیر ملکی کھلاڑیوں ا ئی پی ایل مزید پڑھیں پی ایس ایل
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔