کراچی کے لڑکوں اور لڑکیوں میں شیشہ نوشی کا بڑھتا رجحان خطرناک صورت اختیار کر گیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بڑھتا ہوا شیشہ کلچر خطرناک صورت اختیار کر گیا، شہریوں کا شیشہ کیفیز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ۔
یہ بھی پڑھیں:اسکول جانے والے بچوں میں نیکوٹین پاؤچز اور ای سگریٹ کا بڑھتا رجحان، یہ کتنے خطرناک ہیں؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں شیشہ پینے کا کلچر تیزی سے فروغ پذیر ہے، جس کے سبب سنجیدہ شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے شیشہ کیفے کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیشہ کا استعمال نوجوانوں میں خطرناک حد تک پھیل رہا ہے، لڑکے اور لڑکیاں دونوں اس رجحان کو اپنا رہے ہیں، جو سوشل میڈیا سے بہت زیادہ متاثر ہے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ شیشہ کلچر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اس پھیلتے شیشہ کلچر کا ایک تشویش ناک پہلو یہ بھی ہے کہ کیفے میں شیشہ نوشی کے آلات کی مناسب صفائی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شیشہ شیشہ کیفیز کراچی مضر صحت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شیشہ کیفیز کراچی
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔