اسلام آباد:

پاکستان میں رواں سال کی پہلی خطرناک ہیٹ ویو کی شروعات ہو چکی ہے اور محکمہ موسمیات نے سخت گرمی کے پیشِ نظر ملک بھر میں شہریوں کے لیے انتباہ جاری کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 15 سے 20 مئی تک ملک کے بیشتر علاقے شدید گرم اور خشک موسمی دباؤ کے زیرِ اثر رہیں گے، جس سے درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بیشتر علاقے دن کے اوقات میں غیر معمولی گرمی  کا شکار رہیں گے جب کہ بالائی اور وسطی علاقوں جیسے پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی گرمی کا زور برقرار رہے گا۔

اسی طرح اسلام آباد سمیت ملک کے شمالی حصوں میں درجہ حرارت میں غیرمعمولی اضافہ متوقع ہے، جس سے برف کے تیزی سے پگھلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو تیز کرنے کا سبب بنے گا۔

موسمیاتی ماہرین کے مطابق 19 اور 20 مئی کو مغربی ہواؤں کا نیا سسٹم متوقع ہے جو کچھ علاقوں میں بارش، آندھی اور ژالہ باری کا سبب بن سکتا ہے، تاہم یہ صرف بالائی علاقوں تک محدود رہے گا۔

عوام خبردار رہیں

محکمہ موسمیات اور قومی ادارہ صحت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہیٹ ویو کے دوران خاص احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ صحت کے سنگین مسائل سے بچا جا سکے۔

ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ بزرگ شہری، شیرخوار بچے، حاملہ خواتین، بیمار افراد اور کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدور ہیٹ اسٹروک کا سب سے زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ دن کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، دھوپ میں نکلتے وقت سر کو ڈھانپیں، ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے کپڑے پہنیں اور پانی کا مسلسل استعمال کریں تاکہ جسم میں نمی برقرار رہے۔

پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی الرٹ

پنجاب میں پی ڈی ایم اے نے تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ کر دیا ہے اور ہدایات جاری کی ہیں کہ ہیٹ ویو سے نمٹنے کے لیے فوری انتظامات کیے جائیں۔

اسکول ایجوکیشن، ہیلتھ، ٹرانسپورٹ اور مقامی حکومت کے محکموں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ عوامی مقامات پر پینے کے صاف پانی کی دستیابی اور اسپتالوں میں ابتدائی طبی امداد کی مکمل تیاری کو یقینی بنایا جا سکے۔

کسانوں  اور دیہی عوام کے لیے مشورہ

موسم کی شدت کے پیش نظر کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی زرعی سرگرمیوں کو موسم کے مطابق ترتیب دیں اور مویشیوں کو چھاؤں اور پانی کی مناسب فراہمی یقینی بنائیں تاکہ ان کی صحت متاثر نہ ہو۔

ہیٹ اسٹروک کی علامات اور فوری علاج

قومی ادارہ صحت نے بتایا ہے کہ ہیٹ اسٹروک کی علامات میں سر درد، جسم میں شدید گرمی، چکر آنا، متلی اور ہوش کا کم ہونا شامل ہیں۔ ایسی صورت میں مریض کو فوراً سایہ دار جگہ منتقل کریں، ٹھنڈے پانی سے جسم گیلا کریں اور فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں۔

موسمیاتی تبدیلی کے سنگین اثرات

عالمی اور قومی ادارہ صحت  نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر حدت کی وجہ سے پاکستان میں ہیٹ ویوز زیادہ خطرناک اور طویل ہو رہی ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ہیٹ ویو سے اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات محدود ہیں۔

سندھ میں ہیٹ ویو الرٹ جاری

محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹرنے سندھ میں ہیٹ ویو الرٹ جاری کردیا  ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہائی پریشر نے بالائی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث صوبہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں آج سے 20 مئی تک ہیٹ ویو کا امکان ہے۔

درجہ حرارت

الرٹ  میں بتایا گیا ہے کہ دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں معمول سے 5 تا 7 ڈگری اضافہ رہے گا۔ دیہی سندھ کے دادو، شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر اضلاع گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔ اسی طرح  بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ اور حیدرآباد کے اضلاع میں معمول سے 3 تا 5 ڈگری درجہ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔

کراچی کا موسم

محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں فی الوقت ہیٹ ویو کا کوئی امکان نہیں ہے ، تاہم شہر میں موسم گرم ومرطوب رہنے کا امکان ہے ، جس کی وجہ سے صبح وشام کے اوقات میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے نتیجے میں گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے۔

صبح کے وقت نمی کا تناسب 80 اور شام کو 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے ۔ 3 روز کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری تک تجاوز کرسکتا ہے۔ گرمی کی لہر کے پیش نظر بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دن کے وقت براہ راست سورج کی روشنی سے بچیں اور پانی کا استعمال زیادہ رکھیں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان محکمہ موسمیات میں ہیٹ ویو دیا گیا ہے گیا ہے کہ کے مطابق سے زیادہ گرمی کی دیا ہے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا