کراچی میں شدید گرمی، سمندری ہوائیں بحال ہونے کے باوجود ہیٹ ویو جیسی صورت حال
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
کراچی میں جمعرات کو سمندری ہوائیں چلنے کے باوجود ہیٹ ویو جیسی صورت حال رہی اور درجہ حرارت 35 ڈگری سے تجاوز کرگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کوشہرمیں انتہائی گرم ومرطوب دن ریکارڈ ہوا، جس کے دوران ہیٹ ویو جیسی صورتحال رہی۔
دوپہرکے وقت سمندری ہوائیں بحال ہونے کے باوجود شدید گرمی رہی اور پارہ اصل درجہ حرارت سے 5 ڈگری زیادہ محسوس کیا گیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.
محکمہ موسمیات کے ارلی وارننگ سینٹر ہیٹ ویو الرٹ جاری کیا، جس کے مطابق ایک ہائی پریشر نے بالائی فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث صوبہ سندھ کے بیشتر علاقوں میں 20 مئی تک ہیٹ ویو کا امکان ہے۔
ہائی پریشر کے زیراثردیہی سندھ کے بیشتراضلاع میں دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں معمول سے 5 تا 7 ڈگری اضافہ رہے گا۔
ارلی وارننگ سینٹر کے مطابق دادو، شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر اضلاع گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے جبکہ بدین، تھرپارکر، عمرکوٹ اور حیدرآباد کے اضلاع میں معمول سے 3 تا 5 ڈگری درجہ حرارت میں اضافہ متوقع ہے۔
ارلی وارننگ سینٹرکے مطابق کراچی میں فی الوقت ہیٹ ویو کا کوئی امکان نہیں ہے البتہ موسم گرم ومرطوب رہنے کا امکان ہے، صبح وشام کے اوقات میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کے نتیجے میں گرمی کی شدت اصل درجہ حرارت سے زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صبح کے وقت نمی کا تناسب 80 اور شام کو 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے، 3 روز کے دوران زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری تک تجاوزکرسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات کے کے مطابق سے زیادہ ہیٹ ویو
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ